14 اپریل 2011 - 19:30

بلاشبہ اس وقت جس طرح کا بہیمانہ ظلم و تشدد بحرینی عوام پر صرف اس لئے کہ وہ شیعہ ہیں ہورہا ہے وہ کس طور بھی اس ظلم سے کم نہیں جو گذشتہ تقریبا ایک ہزار سال کے عرصے میں جہاں اسلام میں محب اہلبیت ع کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔

ابنا: در حقیقت شیعہ تاریخ ہی سرخ تاریخ ہے جس کا ہر ورق اہلبیت ع رسول ص اور اس کے ماننے والوں کے خون ناحق سے تحریر ہے ،اور اس کی سب سے بڑی وجہ اہل تشیع کا وہ نکتہ نظرہے جس کے تحت وہ کسی ظالم کو خاطر میں نہیں لاتے، تمام ظالموں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ

دور حاضر میں شیعہ اس لئے قتل کرنے کے لائق ہیں کیونکہ وہ امریکہ کی بات نہیں مانتے

شیعہ نے اپنی سرزمین امریکہ کے حوالے نہیں کی تاکہ وہ اس میں اپنے اڈے بنائے،شیعہ جہاں بھی جس ملک میں بھی ہوں انہیں دوسرے درجے کے شہری کی حثیت بھی نہ دی جائے کیونکہ وہ اپنے عقیدے کی بنیاد پر فلسطین کا حامی ہے اور ہمیشہ سے استبداداور استعمار کے خلاف لڑتا آیا ہے ،شیعہ کو ماردو خواہ بحرین میں ہو یا سعودیہ میں یا پھر عراق و پاراچنار میں اس لئے کہ شیعہ کی فقہ میں لکھا ہے جبر و ظلم کے خلاف ہمیشہ بر سرپیکار رہوکیونکہ شیعہ کی شرعی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ حکمران کتنا ہی ظالم کیوں نہ ہو اس کی اطاعت کی جائے ،کیونکہ شیعہ کی کتاب میں لکھا ہے کہ جس زمین رہتے ہو وہ ماں کی حثیت رکھتی ہے اور اس کی حفاظت واجب ہے ،شیعہ سب سے بڑا مجرم ہے کیونکہ شیعہ کے عقیدے میں اسلامی برادری کی بات ہے اور مسلمانوں کو باہمی وحدت اور اتحاد کی دعوت ہے ،شیعہ اس لئے بھی مجرم ہے کیونکہ ان کے پاس کربلائی جذبہ ہے اور وہ ہر سال نواسہ رسول ص امام حسین علیہ السلام کا ماتم کرتے ہیں ۔بحرین میں جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے اس کے پیچھے اس قسم کی سوچ کارفرما ہے کسی حدتک کہا جاسکتا ہے کہ بیرونی قابض افواج کے بحرین میں داخلے سے پہلے صورت حال بالکل مختلف تھی لیکن اس وقت جو صورت حال ہے و بالکل مختلف ہے اس وقت بحرین میں شیعہ عقیدہ ایک جرم ہے اور عملی طور پر فوجی حکومت یا مارشلاءنافذہے ۔البتہ اب کہیں جاکے عالمی ضمیر نے انگڑائی لینا شروع کیا ہے اور مشرق و مغرب سے ایک دو ایسی آوازیں سنائی دیتیں ہیں کہ بحرین میں ظلم ہورہا ہے ۔ہماری انسانی،اخلاقی،شرعی ذمہ داری بنتی ہے کہ بحرین کی مظلوم عوام کو ان وحشی متعصب ظالموں سے نجات دلانے کے لئے بالکل اسی طرح میدان میں رہیں جس طرح ہم فلسطینی مظلوموں کے لئے میدان میں ہیں ۔ہمیں بھی عالمی میڈیا کی طرح بحرین کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے ،قلم کاروں سے لیکر شاعروں ،ادیبوں ،نقاشوں تک ،خطباءسے لیکر طلبہ تک عوام سے خواص تک سب کو ہر جائز وسیلے سے بحرینی مظلوموں کی مدد کرنی چاہیے ۔ذیل میں اپنے طور پر چند ایسے مشورے عرض کرتاہوں ہو سکتا ہے کہ اس سلسلے میں مفید ہوں:۱۔ روزانہ کم ازکم بحرین کی خبروں کا مختلف زرئع سے ایک گھنٹہ مطالعہ۲۔ کم از کم دس افراد تک بحرین کی خبروں کو مختلف وسائل سے پہنچانا۳۔ بحرینی عوام کی مظلومیت کو اجاگر کرنے کے لئے تصویری نمائش۴۔ پینافلیکس،و پوسٹر چھپنا۵۔ بحرینی خبروں پر مشتمل ہنڈبلز اور کتابچے چھپاپنا۶۔ سمینارز اور کانفرنسز کا انعقاد۷۔ ریلیاں اور مظاہرے۸۔ مشاعروں، مجالس ترحیم کا انعقاد بعنوان شب شہداء۹۔ انسانی حقوق، اقوام متحدہ، اسلامی سربراہی کانفرنس کومسلسل خطوط لکھنا10۔ دعائیہ محافل کا انعقاد جس کی اشد ضرورت ہے (اگر جوشن صغیر کی مجالس جاری رکھی جائیں تو بہتر ہے کیونکہ یہ مؤمنین کی فتحیابی کے حوالے سے مجرب دعا ہے) البتہ اپنے ان کاموں میں یمن اور لیبیا کے مظلوموں کو بھی ضرور یاد رکھا کریں۔