اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق نبیل العربی مصر کے نئے وزیر خارجہ بن گئے ہیں اور احمد ابوالغیط اپنے سیاہ عمل نامے کے ساتھ رخصت ہوگئے ہیں۔مصری انقلابیوں کے مطالبات میں ابولغیط کی برطرفی کا مطالبہ بھی شامل تھا جو صہیونی ریاست کا زبردست حامی تصور کئے جاتے تھے اور انھوں نے غزہ کی 22 روزہ جنگ میں فلسطینیوں پر ظلم و ستم روا رکھنے میں اسرائیل کا ہاتھ بٹایا تھا۔ ابوالغیط نے غزہ کے فلسطینی مسلمانوں کو دھمکی تھی کہ کسی بھی فلسطینی کو مصر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر فلسطینی مصر میں داخل ہونگے تو ان کی ہڈياں توڑ دی جائیں گی۔شاید اسی بنا پر اسرائیلیوں نے نبیل العربی کے وزیر خارجہ بننے پر ان کے آئندہ منصوبوں کی نسبت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صہیونی نیوز ویب سائٹ "عنيان ميركازي" نے لکھا ہے کہ نبیل العربی نے جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں جج کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے مغربی کنارے میں اسرائیلی دیوار کو نسل پرستی کی دیوار قرار دیا تھا۔مذکورہ ویب سائٹ نے لکھا کہ اگر چہ نبیل العربی نے کیمپ ڈیویڈ معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات بھی برقرار رکھے تھے لیکن انھوں نے اس سے پہلے مصری حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ صحرائے سینا پر اسرائیلی قبضے کے دوران مصر کو ملنے والے عظیم معاشی نقصانات کے عوض اسرائیل پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110