4 مارچ 2011 - 20:30

لیبیا میں عوامی تحریک دوسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے۔

اور یورپ نے معمر قذافی کے حکم پر کۓ جانے والے لیبیا کے عوام کے قتل عام کے بارے میں چودہ دنوں تک بے اعتنائی برتنے اور اس قتل عام کی روک تھام کے لۓ کوئي اقدام نہ کرنے کے بعد اب لیبیا میں عوام کے قتل عام کو روکنے کے لۓ لیبیا میں مداخلت کی بات کی ہے۔ امریکہ ، یورپ اور آسٹریلیا نے اس سلسلے میں تجویز پیش کی ہےکہ لیبیا کی فضائی حدود پر کنٹرول حاصل کر کے لیبیا کے جنگی طیاروں کی پروازوں اور اس ملک کے عوام پر ان طیاروں کی بمباری کی روک تھام کی جاۓ۔ عرب لیگ نے اس کے مقابلے میں لیبیا میں ہر طرح کی فوجی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوۓ ایک طرف عرب لیگ میں لیبیا کی رکنیت معطل کردی ہے اور دوسری طرف لیبیا کے اتحاد اور اس ملک میں فوجی مداخلت نہ کۓ جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس میں کوئي شک نہیں ہے کہ یورپ خصوصا امریکہ موجودہ صورتحال کو ایک سنہری موقع میں تبدیل کرنے کے درپے ہے اور وہ لیبیا کے عوام کو مدد پہنچانے کے بہانے اس ملک پر قبضہ کر کے تیل سے مالامال اس ملک میں اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات کبھی بھی پوشیدہ نہیں رہی ہےکہ یورپ ہمیشہ سے لیبیا کے تیل اور گیس کے ذخائر کو للچائي ہوئی نظروں سے دیکھتا رہا ہے۔ اور اب ایسا لگتا ہےکہ چونکہ لیبیا کا ڈکٹیٹر قذافی یورپ کے کسی کام کا نہیں ہے اس لۓ یورپ دو ہفتوں کی خاموشی کے بعد اب لیبیا کے تیل اور گیس کے ذخائر کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لۓ سرگرم ہوچکا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے لیبیا کے فوجیوں کے ہاتھوں اس ملک کے عوام کے قتل عام کے بعد اب لیبیا میں عوامی تحریک کے دوران تقریبا چھ ہزار شہریوں کے قتل عام کےبارے میں امریکہ کی غیر جانبداری کا دعوی کرتےہوۓ اس ملک کے بعض انقلابیوں سے مذاکرات کۓ ہیں تاکہ بزعم خویش اس ملک میں جاری عوامی تحریک کو وائٹ ہاؤس سے ہم آہنگ کیاجاسکے ۔ معمر قذافی نے تینتالیس سال تک اپنے اقتدار کے دوران اپنے آپ کو یورپ کا مخالف ظاہر کرتے ہوۓ یورپ کے ہی مفادات کا تحفظ کیا۔ اور اب یورپ لیبیا میں ایسے شخص کی تلاش میں ہے جو یورپ کے مفادات کا تحفظ کرسکتا ہو۔ گزشتہ چار عشروں کے دوران قذافی نے جو جبر و استبداد کی پالیسی اپناۓ رکھی اور جس طرح سے قومی دولت لوٹی اور ملک میں گھٹن کا ماحول بناۓ رکھا اس پر یورپ نے نہ صرف کبھی بھی اعتراض نہیں کیا۔ بلکہ یورپ اور امریکہ نے گاہے بگاہے قذافی کی پالیسیوں پر مہر تصدیق بھی ثبت کی۔ لیبیا چونکہ یورپ سے قریب ہے اس لۓ یہ ملک یورپ خاص طور پر آسٹریلیا کا دوست ملک شمار ہوتا رہا ہے۔ قذافی کے یورپی ممالک کے دوروں اور ان ممالک کے سربراہوں کی جانب سے لیبیاکے ڈکٹیٹر کا پرتپاک استقبال کۓ جانےسے لیبیا اور یورپ کے گہرے تعلقات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر ایسا لگتا ہےکہ قذافی کے خلاف لیبیا کے عوام کی تحریک اور بہت قبائل اور فوجیوں کے قذافی سے الگ ہوجانے کے بعد یورپ کے پاس اب لیبیا کے عوام کے سامنے جھک جانے اور ان کے فیصلے کو قبول کرلینے کے سوا کوئي چارہ نہیں رہ گيا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی ممالک ، کہ جن میں امریکہ پیش پیش ہے، لیبیا کی فضائي حدود پر کنٹرول حاصل کرنے کی تجویز کے ذریعے لیبیا کی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے اور اپنے سامراجی مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

........

/110