ابنا:بحرین میں اگرچہ اب احتجاج اپنے دسویں دن میں داخل ہوچکا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ احتجاج کرتی عوام ہراگلے دن گذارے دن سے زیادہ نظر آتی ہے جب یہ احتجاج شروع ہوتا تھا صرف چند ہزار افراد نے پرل یا لوءلوءمیدان میں دھرنا لگایا تھا لیکن چند افراد کی شہادتوں کے بعد ہزاروں کا احتجاج لاکھوں اور اب جاکے ملک کی آبادی کا پچاس فیصد سے زیادہ میں تبدیل ہو چکا ہےبادشاہ کی جانب سے مختلف مراعات ،مطالبات پر سر تسلیم خم کرنے کے باوجود عوام کا احتجاج دن بدن بڑھتا جارہا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ وہ عوام ہے جس کو گذشتہ نصف صدی سے اس ظالم بادشاہ نے اپنے ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا ہوا ہے اور صرف جی جناب اور یس سر کرنا سیکھایاہواتھا لیکن اب بازی پلٹی ہے تو بادشا ہ یس سر اور جی جناب کہہ رہا ہے لیکن اب شاید عوام کے لئے یہ کافی نہیں وہ اس سسٹم کو جڑ سے اکھاڑ پھنکنا چاہتے ہیں شروع شروع میں بادشاہ نے ظلم و تشدد کا سہارا لیا سات سے زائد افراد قتل کئے سینکڑوں گرفتار ہوئے ،مذہبی تفرقہ کو ہوا دینے کی کوشش کی لیکن عوام کا نعرہ لاسنیة و لاشیعیة وحدہ وحدہ بحرینیة رہا ۔اگرچہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بادشاہ کے جھکاﺅ میں سب سے بڑے شیطان کی بھی مرضی شامل تھی جس کا پانچواں بحری بیڑہ اس ملک کی آبی سرحد میں ہے
(ع صلاح)