23 فروری 2011 - 20:30

قذافی نے عوام کے قتل عام اور لیبیا کے انفراسٹرکچر اور تیل کے ذخائر اور تنصیبات تباہ کرنے سے متعلق ان کے احکامات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کی رہنے والی صہیونی عورت کی بات شاید صحیح تھی اور اب تو یہ معلوم ہوچلا ہے کہ انھوں نے لیبیا کے عوام کو غریب رکھ کر 80 ارب ڈالر کی دولت اپنے خزانے میں جمع کررکھی ہے. ویسے تو قذافی نے سیادت کا دعوی بھی کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ فاطمی حکمرانوں کے وارث ہیں اور یہ کہ وہ بہت جلد شمالی افریقہ میں فاطمی سلطنت قائم کرنے والے ہیں لیکن وہ در حقیقت مسلمان بھی نہیں ہیں؛ اگرچہ ممکن ہے وہ بعد میں بظاہر مسلمان ہوگئے ہوں۔

صہیونی عورت نے اپنا تعارف کرنل معمر قذافی کی خالہ کے عنوان سے کرایا ہے گو کہ رشتے کی کیفیت دیکھ کر قریبی رشتہ تو ثابت ہوتا ہے تاہم یہ خاتون قذافی کی خالہ نہیں ہوسکتیں۔ صہیونی عورت نے صہیونی ریاست کے ٹیلی ویژن کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ان کی بہن یعنی معمر قذافی کی والدہ ایک یہودی عورت تھیں جو اپنے یہودی شوہر سے تنگ آکر ایک عرب مرد کے ساتھ بھاگ گئیں۔ المستقبل العربی ویب سائٹ نے لکھا:معمر کی والدہ ایک یہودی عورت تھیں جو اپنے بیٹے اور ایک عرب مرد کے ساتھ بھاگ گئی تھیں کیونکہ وہ اپنے پہلے شوہر سے تنگ آگئی تھیں۔ معمر قذافی کی یہودی خالہ ـ جو چہرے مہرے سے قذافی سے ملتی جلتی ہیں ـ کا نام راشل سعادہ ہے. اور انھوں نے حال ہی میں ایک صہیونی ٹیلی ویژن چینل سے بات چیت کی ہے. مکالمہ درج ذیل ہے:اناؤنسر: میں لیبیا کے قائد کی خالہ اور خالہ زاد بھائی راشل سعادہ اور جویتا برون کو خوش آمدید کہتا ہوں؛ آپ کب سے جانتی ہیں کہ قدافی کے والدین یہودی تھے؟راشل: اسرائیل میں ہمارے والد اور ہمارا دادا نے مجھ سے کہا کہ ان کے لیبیا کے قائد کے ساتھ بہت قریبی تعلقات ہیں. اور قذافی کی والدہ میری نانی کی بہن ہیں. اناؤنسر: کیا قذافی کی والدہ مسلمان تھیں؟ راشل: نہیں ہرگز نہیں بلکہ وہ ایک عرب شیخ کے ساتھ بھاگ گئی تھیں. اناؤنسر: کیا قذافی کی والدہ بالکل مسلمان نہیں ہوئیں؟راشل: نہیں بالکل نہیں! بلکہ وہ دین یہود پر قائم رہیں اور ایک عرب اور مسلمان شیخ کے ساتھ بھاگ گئیں کیونکہ وہ پہلے شوہر سے تنگ تھیں. اناؤنسر: کیا وہ مسلمان اور عرب شیخ کے ساتھ بھاگنے کے بعد بھی مسلمان نہیں ہوئیں؟جویتا برون: ہماری نانی کی بہن کا اپنے پہلے شوہر سے ایک بیٹا تھا اور قذافی کے حقیقی والد بھی یہودی تھے جنہوں نے ایک یہودی عورت سے شادی کی تھی جس کے نتیجے میں وہ ایک یہودی بیٹے (معمر) کے مالک ہوئے. اناؤنسر: اس کا مطلب یہ ہوا کہ معمر کی والدہ کے ساتھ ان کے یہودی شوہر (معمر کے اصلی والد) کا برتاؤ درست نہیں تھا جس کے نتیجے میں معمر کی ماں اپنے بیٹے (معمر) کو لے کر اس عرب شیخ (محمد بومنیار القذافی) کے ساتھ مل کر بھاگ گئیں؟جویتا برون: درست ہے! لہذا قذافی نہ صرف یہودی النسل ہیں بلکہ یہودی اعتقاد کے مطابق وہ حقیقی یہودی ہیں.

.....ہماری تحقیق:قذافی کی والدہ لیبیا میں رہنے والے یہودیوں میں سے تھیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے تاہم ان کے والد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے. بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ان کے والد فرانس کے رہنے والے یہودی پائلٹ "البار بریزوسی" تھے. یہ شخص 1913 سے لے کر 1943 تک لیبیا میں تعینات فرانسیسی فوج میں سروس کرتا رہا ہے. کتاب "اوراق موساد" (؟) کی مؤلف "جیگ تیلر" نے قذافی کو یہودی زادہ قرار دیا ہے. ان کے ثبوت درج ذیل ہیں:ـ اطالوی روزنامے "اوجی" نے 1970 میں ایک دستاویز شائع کی جس میں بتایا گیا ہے کہ "قذافی والدہ کی طرف سے ایک یہودی ہیں اور ان کی والدہ لیبیا میں "سرت" کے علاقی میں رہتی تھیں. اس روزنامے نے اس سلسلے میں کئی ناقابل انکار ثبوت بھی پیش کئے تھے. ـ سنہ 1972 میں اطالوی شہر میلان کی ایک عیسائی کارڈینل نے اطالوی زبان میں قذافی کے نام ایک خط لکھ کر ارسال کیا تھا. لیبیائی سفیر "خلیفہ عبدالمجید المنتصر"  نے اس خط کا عربی میں ترجمہ کیا. اس خط میں قذافی کو یوں قسم دی گئی تھی: تمہیں اس یہودی ـ مسیحی خون کا واسطہ جو تیری رگوں میں دوڑ رہا ہے، اور میں تجھ کو قسم دیتا ہوں اور تجھ سے مخاطب ہوتا ہوں کہ ...".ـ قذافی کی مخالفین کا کہنا ہے کہ قذافی ہر سال سات اپریل کو اپنے سیاسی مخالفین کو پھانسیاں دیتے ہیں کیونکہ یہ دن عید تلمود (Eid Talmud) کا دن ہے۔ـ قذافی یہودی تاجر امن "یعقوب نمرودی" سے شدید محبت کرتے ہیں اور ان سے ملاقاتیں کرنا ان کا شوق ہے. ـ قذافی نے فلسطین میں "حکومت اسراطین" کے قیام کی تجویز بھی پیش کی ہے. قذافی کا عقیدہ ہے کہ "یہودیوں اور عربوں کے درمیان کسی قسم کی کوئی دشمنی نہیں ہے اور یہودی عدنانی عربوں کے چچازاد اور نسل ابراہیم (ع) سے ہیں اور جب یہودیوں کا قتل عام ہوا تو عربوں نے انہیں پناہ دی اور ان کی میزبانی کی اور انہیں اپنے ساتھ اور اپنے شہروں میں بسایا. لہذا اس بات میں کوئی عیب نہیں ہے کہ فلسطین میں عربوں اور یہودیوں کی مشترکہ حکومت و ریاست تشکیل دی جائے اور اس کا نام "اسراطین" (اسرا، اسرائیل سے اور طین، فلسطین سے) رکھا جائے.

........

/110