11 فروری 2011 - 20:30

عالمی برادری نے مصری صدر حسنی مبارک کے استعفے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فوج پر زور دیا ہے کہ ملک میں جمہوری نظام کے لئے فوری اقدامات کرے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انقلاب مصر کے آغاز سے متضاد بیانات کی وجہ سے عالمی شہرت یافتہ امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ حسنی مبارک کا استعفی تبدیلی کے عمل کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ اب اقتدار کی منتقلی یقینی بنانا فوج کی ذمے داری ہے اور یہ عمل ایسا ہونا چاہئے جو مصری عوام کے لئے قابل اعتبار ہو۔ صدر اوباما نے بظاہر مصری انقلابی قوم کو خوفزده کرنے کی غرض سے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دن مشکل بھی ہوسکتے ہیں!!؟امریکی نائب صدر جو بائیڈن، جرمنی کی چانسلر آنجلا مرکل نے مصری انقلاب کی کامیابی کے دن (11 فروری) کو تاریخی دن قرار دیتے ہوئے مصری عوام کو مبارک باد دی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ مصری عوام کی آواز سنی گئی ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے مصری عوام کو خراج تحسین پیش کیا اور فوج پر زور دیا کہ مکمل جمہوری نظام کے لئے اقتدار کی تیز تر منتقلی یقینی بنائی جائے۔ حسنی مبارک کو اپنے ملک میں پناہ دینے کے لئے آمادگی کا اظہار کرنے والی جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے کہا کہ حسنی مبارک کے استعفے سے تاریخی تبدیلی آئی ہے اور امید ہے کہ مستقبل کی حکومت مشرق وسطیٰ میں امن برقرار رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ مرکل نی مشرق وسطی میں مصر کی مستقبل کی حکومت کے کردار کے سلسلے میں جو مثبت امید ظاہر کی ہے اس سے ان کا مطلب غالباً یہی ہوسکتا ہے کہ انقلابی حکومت صہیونی ریاست کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ کے غدارانہ معاہدے کو برقرار رکھے گی اور مصر مستقبل میں بهی ناجائز اسرائیلی ریاست کی تزویری گہرائی (Strategic Depth) کا کردار ادا کرتا رہے گا لیکن انقلابیوں کے رویئے سے ایسا نظر نہیں آرہا۔بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں حسنی مبارک کے استعفے اور فوج کی سپریم کونسل کی طرف سے اقتدار کی پرامن منتقلی کے وعدے کا خیر مقدم کیا۔ ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤد اوگلو نے امید ظاہر کی کہ مبارک کا استعفی مصری عوام کے مطالبات پورے کرنے والے ایک نئے نظام کو جنم دے گا۔ قطر کی حکومت نے بھی مصر میں حکومت کی تبدیلی کو جمہوریت، اصلاحات اور مصری شهریون کی بہتر زندگی کے لئے مثبت اور اہم قدم قرار دیا ۔ قطر کے سربراہ شیخ حمدبن خلیفہ آل الثانی نے مبارک کے استعفے کا خیر مقدم کیا۔ شیخ حمد پہلے عرب سربراہ ہیں جنہوں نے حسنی مبارک کے استعفے کا خیر مقدم کیا ہے۔قاہرہ میں اسرائیلی سفارتخانہ امن و امان کی موجودہ صورت حال کے بہانے بند کیا گیا ہے۔ ذرائع کی مطابق اسرائیلی حکمران تشویش اور خوف و ہراس کے ساتھ حسنی مبارک کی رخصتی کا تماشا دیکھتے رہے۔اخوان المسلمین کے مرشد عام کے نشر و اشاعت کے شعبے کے سربراه ولید شلبی نے کہا کہ مبارک کے جانے کے ساتھ ہی مبارک کا نظام حکومت مکمل طور پر چلا گیا ہے اور ہم عمر سلیمان کو تسلیم کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں۔ فوج سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اقتدار پرامن طریقے سے عوام کے سپرد کرے۔ ان تمام افراد پر مقدمہ چلنا چاہئے جنہوں نے مصری انقلاب کے ایام میں لوگوں کا خون بہایا۔اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مصری قوم کو مبارک باد کہتے ہوئے کہا کہ مصری عوام کی خوشی ایرانی عوام کی خوشی ہے اور ہ مصری قوم کی اس عظیم جشن میں شریک ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملت مصر کا عزم و ارادہ کامیابی پر منتج ہورہا ہے اور یہ ملت ایران اور حکومت ایران کے لئے بہت بڑی خوشی اور مصری عوام کے لئے بہت بڑی خوشی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے حسنی مبارک کے استعفے کو مظاہرین کی عظیم فتح قرار دیا۔اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی سلامتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر سعید جلیلی نے کہا ہے کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ کے روز مصری انقلاب کی کامیابی نے 11 فروری کو عالمی سطح پر امریکی ہزیمت کے دن میں تبدیل کردیا ہے۔حماس نے کہا کہ مبارک کی برطرفی انقلاب مصر کی کامیابی کا آغاز ہے۔حزب اللہ لبنان نے لبنانی عوام کو مبارک باد کا پیغام دیا ہے اور فلسطین کی مجاہد تنظیموں جہاد اسلامی اور حماس نے مصری انقلاب پر یوم تشکر منانے اور عظیم ریلیاں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔........./110