4 فروری 2011 - 20:30

امریکی اب محمد البرادعی کو مصری عوام میں مقبول بنانے کے لئے صہیونی اور امریکی ذرائع ابلاغ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ ایران نواز کہہ رہے ہیں تاکہ لوگ نوبل انعام کو بھول جائیں اور البرادعی کو ایران نواز سمجھ کر قبول کرلیں۔

حسن مصطفی

آج کل امریکہ ، یورپ اور اسرائیل سمیت پورے عالمی استکبار پر خوف و ہراس طاری ہے۔یہ خوف و ہراس بلاوجہ نہیں اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اب مصر جیسا ایک اہم اسلامی ملک ان کے  تسلط سے آزاد ہونے کو ہے۔ تیس سال تک عالمی استکبار کی پشت پناہی کے باعث مصر اسرائیل کے لئے ایک محکم قلعے اورعالمی منڈی کی حیثیت رکھتا تھا. اسرائیلی اجناس فوراً مصر سے جعلی لیبل کے ساتھ دوسرے عرب ممالک میں پہنچ جاتی تھیں دوسری طرف مصر  فلسطینی عوام کی قتل و غارت میں بھی اسرائیل کا معاون و مددگار تھا آج  وہی مصر جو عالمی استکبار خصوصا صہیونیوں کے لئے بہشت کی حیثیت رکھتا تھا عوامی بیداری کے باعث استعمار کے لئے جہنم بن گیا ہے چنانچہ اس نئی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ، یورپ اور صہیونیوں کے میڈیا نے مصر میں اپنی من پسند شخصیات کو اوپر لانے کے لئے تگ و دو شروع کردی ہے ۔سب سے پہلی شخصیت  جسے میڈیا بہت اچھال رہا ہے وہ عمر سیلمان کی ہے جو حسنی مبارک کا معاون ہے ۔ شواہد سے یہ اندازہ  ہورہا ہے کہ عمر سیلمان جیسے لوگوں کا نام لینا مصری عوام کو محض دھوکہ دینے کے لئے ہے چونکہ مصری عوام  پہلے ہی عمر سلیمان کے ستائے ہوئے ہیں۔ اگر عمرسلیمان کو متبادل کے طور پر لوگ قبول نہ کریں تو اس کے لئے امریکی میڈیا، غیر محسوس انداز میں البرادعی کو منظر عام پر لا رہا ہے۔ اس وقت استکباری میڈیا مصری عوام کو یہ باور کرانے میں مصروف ہے کہ مصری عوام کا آئیڈیل رہبر جو مصریوں کے ساری مشکلات کا حل نکال سکتا ہے البرادعی ہے۔ البرادعی کے بارے میں ہم بتاتے چلیں کہ مسٹر البرادعی عالمی اٹامک انرجی ادارے میں  جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے اپنی بیش بہاء صہیونی خدمات اور امریکہ نوازیوں کے صلے میں صہیونیوں کے ہاتھوں ۲۰۰۵ میں نوبل پرائز وصول کرچکے ہیں۔البرادعی جسے جب ۲۰۰۵ میں ناروے کےدارالحکومت اوسلو میں اولی امحورس نوبل کمیٹی کے صہیونی رکن نے اپنے ہاتھوں سے نوبل انعام دیاتھا اسے اب مصری عوام میں مقبول بنانے کے لئے صہیونی اور امریکی ذرائع ابلاغ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ ایران نواز کہہ رہے ہیں تاکہ لوگ نوبل انعام کو بھول جائیں اور البرادعی کو ایران نواز سمجھ کر قبول کرلیں۔امریکہ اور اسرائیل کی یہ سازش بھی  اخوان المسلمین کے سامنے دم توڑتی نظر آرہی ہے۔اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ دنوں جب وہ  وہ چند منٹ کے لئے لوگوں کے درمیان چند منٹ تقریرکرنے کے بعدواپس جانے لگا تو اسے لوگوں کی طرف سے شدید نفرت،غصے اور توہین کا سامنا کرنا پڑا ۔مصری عوام کو اس وقت اسی طرح جرات، شجاعت اور بصیرت کے ساتھ  میدان میں ڈٹے رہنے کی ضرورت ہے ورنہ تاک میں بیٹھا ہوا دشمن  ہاری ہوئی بازی کو جیتنے کے لئےکوئی بھی نئی چال چل سکتاہے۔مصری عوام کی قلمی،اخلاقی اور سیاسی مدد کرنا ہم سب کا دینی،اخلاقی اور ملی فریضہ ہے ۔آج جاگا ہوا مصر اگر دوبارا سوگیا تو پھر ہارا ہوا استعمار پھر سے فاتح میدان بن جائے گا۔

......

/110