3 دسمبر 2010 - 20:30

حدیث غدیر 110 صحابیوں سے منقولہ ایک متواتر حدیث کا نام ہے جس کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکا ہے لیکن اس کی دلالت میں تأویل کرکے اس کے معنی و مقصود کی تحریف کی کوشش کی ہے۔...

اب سوال یہ ہے کہ:

* یہ کیسی دوستی تھی جس کے اعلان کے لئے اللہ تعالی نے اپنے حبیب سے اس لہجے میں بات کی،

* یہ کیسی دوستی تھی کہ اگر آپ (ص) نے اس کا اعلان نہ کیا تو گویا آپ (ص) نے رسالت کی ذمہ داری نبھائی ہی نہیں!

* یہ کیسی دوستی تھی جس کا اعلان کرتے ہوئے آپ (ص) کو تحفظات کا سامنا تھا؟

* یہ کیسی دوستی تھی جس کا اعلان کرتے وقت اللہ تعالی کو فرمانا پڑا کہ "میں لوگوں سے آپ کی حفاظت کروں گا؟

٭ ان سوالات کا جواب نہ ملنے کی صورت میں کیا ہمیں اس سادہ سی بات کی طرف نہیں لوٹنا چاہئے کہ اللہ تعالی نے رسول اللہ (ص) پر جو کچھ نازل فرمایا تھا وہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت و خلافت کا اعلان تھا؟

اب ایک بار پھر خدا اور اس کے رسول (ص) کے کلام کی تأویل کی طرف لوٹ آتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ:

چلئے مان لیتے ہیں کہ اللہ تعالی نے یہی فرمایا ہوگا کہ "اے رسول (ص)! مسلمانوں سے کہہ دیجئے کہ میں جس کا دوست ہوں یہ علی(ع) بھی اس کے دوست ہیں لیکن اس سے قبل معترضین و معارضین و مخالفین اور منکرین ولایت کو بعض بنیادی سوالات کا جواب دینا پڑے گا؛

سوالات کچھ یوں ہیں:

1۔ سورہ مائدہ کی آیت 55 (إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللہ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ ...) مدینہ میں نازل ہوئی تھی اور اس میں خداوند متعال نے فرمایا تھا کہ میں بھی تمہارا ولی ہوں اور رسول(ص) بھی تمہارے ولی ہیں اور وہ مؤمن کامل (علی (ع)) بھی تمہارے ولی ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکاة بھی دیتے ہیں... الله نے فرمایا میں تمہارا حاکم و سرپرست ہوں اور رسول (ص) بھی اور علی(ع) بھی تمہارے حاکم و سرپرست ہیں لیکن مخالفین نے کہا کہ نہیں "ولی" کا مطلب دوست ہے؛ چلئے ہم نے مان لیا کہ اس "ولی" کے معنی وہی ہیں جو تم کہتے ہو لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ دوستی کا یہ اعلان تو مدینہ میں ہوچکا تھا آیت 55 کے ضمن میں، پھر یہ غدیر کے مقام پر تھکے ماندے حاجیوں کو تین دن تک لق و دق صحرا میں بٹھا کر یہی اعلان دوباره کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

2- کیا دوستی اور اخوت و برادری کا اعلان 23 سالہ تبلیغ رسالت کے دوران دسیوں مرتبہ نہیں ہوا تھا؟ اگر نہیں ہوا تھا تو "انماالمؤمنون اخوة"، "محمد رسول اللہ والذین معه اشداء علی الکفار رحماء بینهم"، اور "لاَ تَتَّخِذُواْ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ" اور ان جیسی متعدد آیات قرآنی اور اسی مضمون پر مروی دسیوں حدیثوں کا مطلب کیا ہوسکتا ہے؟

3۔ اگر مان لیا جائے کہ آخری حج کے بعد رسول اللہ(ص) کی حیات طیبہ کے آخری اور حساس ایام میں مکہ سے مدینہ تشریف لاتے ہوئے آپ(ص) کو حکم ہوا کہ آپ (ص) امت مسلمہ کے ساتھ "علی کی دوستی" کا اعلان کر ہی دیں تو حجاج کو نہایت شدید گرمی میں روکنا کیوں پڑا! تین دن تک پڑاؤ ڈالنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ لوگوں کو دوستی کے اس معمولی سے اعلان کے لئے زحمت کیوں دینا پڑی؟ کیا رسول اللہ (ص) اونٹ کے پیٹھ سے ہی اللہ کی طرف سے اس مفروض دوستی کا اعلان نہیں کرسکتے تھے؟ کیا آپ (ص) غدیر خم سے گذر کر دور ہونے والوں کو واپس بلانے اور پیچھے رہنے والوں کو موقع پر پہنچنے کی ہدایت دینے کی بجائے لوگوں سے نہیں فرما سکتے تھے کہ حاضرین سن لیں اور غائبین کو بھی ابلاغ کریں کہ "میں جس کا دوست ہوں یہ علی(ع) بھی اس کے دوست ہیں؟!

4- غدیر خم ایک لق و دق صحرا کا نام ہے جہاں رہن سہن کی سہولیات نہیں تھیں اور کوئی عمارت نہ تھی اور کوئی سایہ بھی نہ تھا، منبر و محراب بھی نہ تھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے حکم دیا کہ "اونٹوں کے پالانوں کا منبر بنائیں اور پھر لوگوں کو جتایا: کیا میں تم ہر روز لا الہ الااللہ اور محمد رسول اللہ(ص) ورد نہیں کرتے ہو؟ کیا تم مجھے اپنے نفسوں پر اپنے سے زیادہ حق کے قائل نہیں ہو؟ اور یہ کہ "میں تمہارے درمیان دو گرانقدر اشیاء چھوڑے جارہا ہوں کتاب اللہ اور میری عترت و اہل بیت(ع) ان دونوں کا دامن تھامے رہوگے تو گمراہی سے بچ کر رہو گے اور جان لو کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہونے والے نہیں ہیں جب تک یہ حوض کوثر کے کنارے مجھ سے آ ملیں۔ پھر علی(ع) کو بلایا اور اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور اس قدر اونچا اٹھایا کہ راویوں نے کہا ہے کہ دونوں کی بغلوں کی سفیدی سب کو نظر آنے لگی اور پھر فرمایا: من کنت مولاه فهذا علی مولاه؛.

یاد رہے کہ حدیث ثقلین بھی غدیر کے مقام پر زبان نبوی سے صادر ہوئی اور اس کے منابع و مآخذ اور غیر شیعہ کتب سے اس کے ثبوت دیکھنے کے لئے یہاں رجوع فرمائیں۔ 

اب اگر فرض کیا جائے کہ مولا سے مراد دوست ہے تو اتنے اہتمام کی اور اتنی زیادہ زحمت و مشقت کی ضرورت ہی کیا تھی؟

5۔ اگر اللہ کے حکم کا حکم امت سے علی (ع) کی دوستی کا اعلان کرانا تھا تو سخت لب و لہجے کی ضرورت کیوں پڑی؟ کہ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو ...

6۔ اگر ہدف دوستی کا اعلان تھا تو رسول اللہ (ص) نے بڑا خیمہ لگوا کر مسلمانوں سے علی(ع) کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا فرمان کیوں جاری کیا؟ اور لوگوں سے کیوں فرمایا کہ "آؤ اور مجھے علی کی ولایت اور دین کے مکمل ہونے پر مبارک باد دو"؟ کیا مسلمانوں سے علی (ع) کی دوستی کے اعلان کے لئے علی(ع) کی بیعت کرنا اور رسول اکرم(ص) کو مبارک دینا عجیب نہیں ہے؟ اور یہ ولایت واقعی امامت و خلافت کے سوا کچھ اور ہوسکتی ہے؟

7. غدیر کی دن جب ولایت امیرالمؤمنین(ع) کا اعلان ہوا تو الله تعالی نے دین اسلام سے کفار کی ناامیدی، الله سے ڈرنے اور کفار سے نہ ڈرنے کا حکم دیتے ہوئے اور اکمال دین و اتمام نعمت اور ایک بار پھر دین اسلام کو ہمارے لئے پسند فرمانے کا اعلان کرتے ہوئے آیت بھیجی: "الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمْ فَلاَ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ ديناً (مائده – 3)" = آج کافر لوگ تمہارے دین کی طرف سے نااُمیدہو گئے ہیں تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے دین کوکامل کر دیااور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین کے پسند کر لیا۔

سوال یہ ہے کہ اگر ولایت سے مراد دوستی تھی تو:

یہ کیسی دوستی تھی جس کے اعلان کے ساتھ ہی کفار دین اسلام کو نقصان پہنچانے سے ناامید ہوگئے؟

یہ کیسی دوستی تھی جس کا اعلان ہونے کے بعد خاص طور مسلمانوں کو صرف خدا سے ڈرنا اور کفار سے نہ ڈرنا چاہئے؟

یہ کیسی دوستی تھی جس کے اعلان کے ساتھ ہی الله نے اپنے دین کے مکمل ہونے کا اعلان کیا؟