5 نومبر 2010 - 20:30

روز جمعہ ہر فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمان خدائے وحدہ لا شریک کے حضور سربسجود ہونے کے لیے نماز جمعہ کی ادائیگی کے سلسلے میں اجتماعی طور پر مساجد میں حاضر ہوتے ہیں اور اب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں ہر جمعہ کو طالبان دہشت گردوں کی جانب سے کسی نہ کسی مسجد پر خودکش حملے کی خبریں آنے لگی ہیں۔

کل بھی جمعہ کا دن تھا اور اس بار دہشت گردوں نے پاکستان کے قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں ایک مسجد پر خودکش حملہ کر کے سینکڑوں نمازیوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا ہے اور  کل ہی نماز عشاء کے وقت پشاور کے نواح میں ایک مسجد پر دہشت گردوں نے دستی بموں سے حملہ کیا جس میں متعدد نمازی جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں خود کش حملوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے کچھ عرصہ پہلے دہشت گردوں نے پاکستان ک سکیورٹی فورسز کے مراکز کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا اور ان کی ہمت اس حد تک بڑھ گئی کہ انہوں نے پاکستان کے سب سے طاقتور ادارے فوج کے ہیڈکوارٹر جی ایچ کیو کو بھی نشانہ بنا ڈالا اور اب کچھ عرصے سے ان دہشت گردوں نے اپنے حملوں کا رخ صوفیائے کرام کے مزارات اور مساجد کی جانب موڑ دیا ہے۔
بعض مبصرین کا یہ کہنا ہے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیجھے غیرملکی ہاتھ ہے اور غیرملکی طاقتیں اپنے زرخرید ایجنٹوں کے ذریعے یہ کارروائیاں کروا رہی ہیں اور ان سے کئی مقاصد حاصل کر رہی ہیں۔ ایک طرف تو وہ پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کر کے اس کو اپنے سامنے جھکانے پر مجبور کر رہی ہیں اور ساتھ ہی اس کو اس سے شدید اقتصادی نقصان پہنچا رہی ہیں جس سے وہاں کے عوام براہ راست متاثر ہو رہے ہیں اور حکومت سے ان کی ناراضگی بڑھ رہی ہے جس سے حکومت بھی سخت دباؤ میں ہے۔ اس کے علاوہ ان کارروائیوں کوفرقہ وارانہ رنگ دے کر وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
ان حالات میں علماء پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو دشمن کی ان سازشوں سے ہوشیار کریں اور خود بھی اپنی صفوں میں اتحاد قائم کر کے مختلف مسالک کے علما کے اتحاد کو موضوع پر اجلاس منعقد کر کے اس سلسلے میں عوام کے سامنے عملی نمونہ پیش کریں۔ اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز اور عدلیہ پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردوں اور فرقہ وارانہ کارروائیوں میں ملوث عناصر کو گرفتار کر کے انہیں قرار واقعی سزا دیں۔
آج پاکستان کے عوام کی نظریں اعلی عدلیہ پر لگی ہوئي ہیں کہ جس طرح وہ کسی فرد پر ہونے والے ظلم کا ازخود نوٹس لیتی ہے اسی طرح وہ معاشرے پر ہونے والے اس اجتماعی ظلم کا بھی ازخود نوٹس لے گي اور اس میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دے کر دوسروں کے لیے عبرت کا نمونہ بنا دے گی۔
کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں انٹیلی جنس ایجنسیاں انتہائی طاقتور ہیں اور وہ کسی بھی معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں تو پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں ملوث دہشـت گردوں کی گرفتاری اور ان کے آقاؤں کی نشاندہی ان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ اب یہ دہشت گرد خود ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں اور بیرونی دنیا میں پاکستان کی ساکھ خراب ہونے کا باعث بن رہے ہیں۔
پاکستان میں شیعہ اور سنی ایک عرصے سے اکٹھے رہتے چلے آ رہے ہیں لیکن اب کچھ غیرملکی طاقتیں اپنے زرخرید ایجنٹوں کے ذریعے ان میں قائم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں اور اس کے لیے مختلف ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہیں جن میں جلوس ہائے عزا میں اور مساجد میں نماز کی ادائیگی کے دوران دہشت گردانہ حملوں اور صوفیائے کرام کے مزارات پر حملوں جیسے ہتھکنڈے شامل ہیں۔ لیکن پاکستان کے عوام پوری طرح ہوشیار ہیں اور وہ سامراجی دشمن کی سازشوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں جس طرح انہوں نے پہلے بھی ملک میں فرقہ وارانہ لڑائی کرانے کے لیے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا ہے اب بھی وہ اپنے اتحاد اور ہوشیاری سے ان سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔

بشکریہ از ریڈیو تہران

............

/110

- وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّهِ ...
- درہ آدم خیل کی مسجد میں خودکش حملہ : شہداء کی تعداد95 ہوگئی

- پشاور، مسجد میں نماز جمعہ کے دوران بم دھماکا، 5 نمازی جاں بحق، 22 زخمی

- تحصیل لنڈی کوتل میں دھماکے، مسجد اور مزارات شہید

- بڈھ بیر میں خود کش دھماکا،چھ جاں بحق،42 زخمی/ مسجد شہید

- رواں سال میں ہونے والے خودکش حملے اور بم دھماکے

- مسجد میں دھماکے، 30 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

- راولپنڈی: طالبان کا پھر بھی مسجد پر حملہ!!

- واناکی مسجدمیں دھماکہ ، بیس ہلاک

- ہنگو مسجد دھماکہ

- افغانستان: مسجد میں بم دھماکہ، گورنر سمیت 15ہلاک

- پاکستان - مسجد میں دھماکہ، پینتیس ہلاک