15 اکتوبر 2010 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد اپنا دو روزہ دورہ لبنان مکمل کر کے تہران واپس پہنچ گئے ہیں۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر محمود احمدی نژاد رات تین بجے تہران کے ہوائي اڈے پر پہنچے جہاں نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد ان کے استقبال کے لئے کھڑی تھی۔یہ نوجوان کئی گھنٹوں سے ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کی آمد کے منتظر تھے اور انھوں نے لبنان کی مزاحمت تحریک کی حمایت پر مبنی ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے موقف کے حق میں نعرے لگائے۔ صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے تہران کے مہرآباد ہوائي اڈے پر کہا کہ ہم سب ملت لبنان کی دلیرانہ مزاحمت کی حمایت کرتے ہیں اور اس دن کے منتظر ہیں جب انسانیت کے نجات دہندہ ظہور فرما کر دنیا بھر میں عدل قائم کریں گے۔ ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے مزید کہا کہ آپ لوگ یقین رکھیں کہ اسرائيل نابود ہوکر رہے گا اور کامیابی کا واحد راستہ استقامت ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسن قشقاوی نے کہا ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے دورہ لبنان سے دونوں ملکوں کی پوزیشن مضبوط ہوئي ہے۔ حسن قشقاوی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے صدر احمدی نژاد کے دورہ لبنان کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور لبنان کے درمیان باہمی تعاون کے سترہ سمجھوتوں پر دستخط کئے جانے سے تمام شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کی سطح بلند ہوئي ہے۔ صہیونی حکومت کی جیل سے آزاد ہونے والے اور لبنان سے تعلق رکھنے والے سمیر قنطار نے بھی اس موقع پر کہا کہ لبنانی عوام کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے شاندار استقبال کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک ایسے نظام کے نمائندے ہیں جو تیس برسوں سے استقامت اور مستضعفین کی حمایت کررہا ہے۔ واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے اپنے دو روزہ دورہ لبنان کے دوسرے دن حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ سے ملاقات میں لبنانیوں کے اتحاد اور ان کی تحریک مزاحمت کو دشمنوں کی سازشوں کی ناکامی کا سبب قرار دیا۔ بیروت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے میں انجام پانے والی اس ملاقات میں ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے مزید کہا کہ ملت لبنان اپنے اتحاد اور استقامت کے ذریعے دشمنوں کی ممکنہ سازشوں کو ناکام بنا دیا۔ ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے مزید کہا کہ ملت لبنان نے اپنے اتحاد اور استقامت کی بدولت 33 روزہ جنگ میں صہیونی ریاست پر فتح حاصل کی اور آج لبنان میں قائم امن امیدافزا پیدا ہے جبکہ صہیونی ریاست آئے دن کمزور سے کمزور ہوتی جارہی ہے۔ اس ملاقات میں سید حسن نصراللہ نے بھی کہا کہ لبنانی نوجوانوں کی استقامت اور پائیداری کی بدولت آج لبنان میں اتحاد اور امن قائم ہے اور وہ دشمنوں خصوصا صہیونی ریاست کی سازشوں کے بارے میں ہمیشہ ہوشیار ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110