وہ ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں آل پاکستان مسلم لیگ ڈیلس کی جانب سے منعقدہ ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ پرویز مشرف نے کہاکہ ڈاکٹر قدیر نے جو کچھ کہا وہ رضاکارانہ طور پر کہا کیوں وہ شرمندہ تھے اور اب یہ ہر قسم کی باتیں کر رہے ہیں، کبھی کسی کے خلاف، کبھی میرے خلاف، یہ بالکل غلط باتیں ہیں اور میں یہ صاف کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے ڈاکٹر قدیر کو بچایا ہے اور جو کچھ ان کے ساتھ ہوا ہے وہ بالکل معمولی ہوا ہے کیونکہ وہ ایک قومی ہیرو تھے، پاکستان کی عوام ان کو ہیرو سمجھتی تھی اور میں بھی سمجھتا تھا لیکن انہوں نے جو غلطی کی ہے وہ ایک بڑا بلنڈر تھا جسے مان کر انہیں خاموش رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی چیزیں اور بھی ہیں جو مجھے معلوم ہیں تاہم حساسیت کی بناء پر میں نہیں کہہ سکتا جتنا ڈاکٹر قدیر بول رہے ہیں ورنہ میں کھل کر بات کروں تو ان کے بارے میں پتہ نہیں کیا کچھ بتا سکتا ہوں، لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ وہ خاموش رہیں، ڈاکٹر قدیر کو میں نے بچایا ہے وہ کم از کم اسی کا احساس کریں۔ پرویز مشرف نے لال مسجد کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اس پر قوم سے معافی طلب نہیں کی کیوں کہ اس میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاتون بھی اس واقعے میں ہلاک نہیں ہوئی صرف 125یا150میں سے94لوگ مارے گئے جن میں دو غیرملکی دہشت گرد تھے۔ انہوں نے کہاکہ لال مسجد واقعے سے قبل ہم نے علماء کو وہاں بھیجا، یہاں تک کہ امامِ کعبہ بھی وہا ںآ ئے مگر وہ نہ مانے لہٰذا ریاست کو چیلنج کرنے والوں کو بھرپور جواب دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ہیروز کو ولن اور دہشت گروں کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو طالبان کا ملک نہیں بنانا چاہتے لہٰذا یہ ایکشن ضروری تھا۔ پرویز مشرف نے کہا کہ جب میں یونیفارم میں تھا تو لوگ مجھے ڈکٹیٹر کہتے تھے۔ انہوں نے انگلی کا اشارہ دماغ کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ ڈکٹیٹر تو دماغ کے اندر ہوتا ہے، خالی کپڑے پہننے سے کوئی شخص ڈکٹیٹر نہیں ہوجاتا۔ پرویز مشرف نے کہا کہ میں نے صرف این آر او پر قوم سے معذرت کی ہے اوروہ بھی سیاسی دوستوں کی وجہ سے غلطی ہوئی تھی جس کی وجہ سے آج تک ملک میں خلفشار ہے۔ اس موقع پر ڈیلس آل پاکستان مسلم لیگ کے کو آرڈینیٹر جاوید صدیقی اور دیگر نے خطاب کیا۔ جلسے میں 500کے قریب پاکستانی شریک ہوئے جبکہ ان کی آمد پر پارٹی رہنماوٴں امیرسکھانی، ڈاکٹر حسن، ڈاکٹر تسنیم آغا، نعیم سکھیا، ندیم اختر، عظیم صدیقی، تنویر ملک، ڈاکٹر ارجمند ہاشمی، خلیل قریشی، محمدعلی صدیقی، ندیم چوہدری اور دیگر نے بھرپور استقبال کیا۔ قبل ازیں ان کی آمد پر تحریک انصاف ڈیلس چیپٹر کی جانب سے احتجاج کی کال پر مرد و خواتین نے شرکت کی۔ مظاہرین میں امریکی خواتین بھی شامل تھیں جو پرویز مشرف کے خلاف پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھیں۔ مظاہرہ مکمل طور پر پرامن تھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کو پاکستان جاکر مقدمات کا سامنا کر ناچاہیے، جبکہ انہوں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کو امریکا سے ڈیپورٹ کیا جائے کیوں کہ انہوں نے ملک کے آئین کو توڑا اور بے گناہ لوگوں کو قتل کیا۔ مظاہرے میں ڈیلس اسپیس سینٹر کے اراکین نے بھی شرکت کی۔ تحریک انصاف ڈیلس کے کو آرڈینیٹر ڈاکٹر نصراللہ خان نے کہا کہ ان کی طرف سے بھرپور احتجاج کے باعث مشرف نے اپنے خطاب کا وقت تبدیل کردیاتا ہم وہ جہاں بھی جائیں گے ان کو مظاہرین کا سامنا کرنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110