بسم اللہ الرحمن الرحیمسیلاب زدگان کے سروں پر اسرائیلی امداد کی چھتری
کچھ لوگ آج بھی جب قیام پاکستان کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں آگ اور خون کا دریا پھرسے جوش مارنے لگتا ہے ،ان کی سانسوں میں پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کے نعرے کی مہک گردش کرنے لگتی ہے،ان کی رگوں میں شہداء تحریک پاکستان کی محبت پھرسےدوڑنے لگتی ہے اور ان کی زبان سےقیام پاکستان کےان لمحات کا ذکرآج بھی سامعین کو مضطرب اور مسحور بنا دیتاہے۔چونکہ ہمارے اور تحریک قیام پاکستان کے درمیان کافی فاصلہ ہے اس لئے ہم لوگوں کو قیام پاکستان کے بجائے قیام طالبان کے قصے سناتے رہتے ہیں۔قصے تو قیام طالبان کے بھی بہت دلچسب ہیں اور ان قصوں کوسن کربھی لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں خصوصاً جب سننے والا پڑھا لکھا اور باشعور شخص ہواور اگروہ وقتی طور پر اپنے آنسو روک بھی لے تو بعد میں تحقیق کرنے سے اس کی آنکھوں سےبھی برسات کی جھڑی لگ جاتی ہے۔
البتہ ہمارے ہاں یہ برسات کی جھڑی بھی بہت بدنام ہے اور اس کی بدنامی میں خاص حصہ امریکہ اور ضیاء الحق کا ہے۔جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا توامریکہ اور ضیاء الحق کی آنکھوں سے اسلام کے غم میں برسات کی ایسی جھڑی لگی کہ پورا عالم اسلام اس میں نہا گیا۔لوگ رو روکر خلوص اور محبت کے ساتھ جہادی کیمپوں میں بھرتی ہونے لگے اور پھر جلد ہی اس جھڑی کے ساتھ ساتھ طالبان کے اولے بھی برسنے لگے۔بات کچھ یوں ہے کہ جس طرح برطانیہ کے مفادات کے تحفظ کی خاطرلارڈ میکالے کی تجویز پر ہندوستان میں ایک ایسے طبقے کی ضرورت کو محسوس کیا گیا تھا جو جسمانی طور پر ہندی ہو لیکن فکری طور پر برطانوی ہو اور اس طرح وہ طبقہ ہندوستان میں رہ کر برطانیہ کے مفادات کا محافظ ہو۔اسی طرح اکیسویں صدی میں اسرائیل کا مسئلہ یہودی دنیا کی زندگی اور موت نیز عزت و آبرو کا مسئلہ ہے۔یہودی دنیا اچھی طرح یہ جانتی ہے کہ اسرائیل کا خاتمہ موجودہ منحرف یہودیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔چنانچہ یہودی اسرائیل کو ہر صورت میں قائم رکھنا چاہتے ہیں اور اس وقت وہ پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ اسرائیل کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دنیاء اسلام کے قلب میں واقع ہونے کے باعث اسرائیل کو حقیقی خطرہ صرف اور صرف مسلمانوں سے ہے۔یہودیوں کو ایک ایسے طبقے کی ضرورت تھی جو بظاہر نہ صرف یہ کہ مسلمان ہو بلکہ خوارج کی طرح ایک ٹھوس قسم کا سچا اور پکا مسلمان نیز مجاہدبھی ہو جبکہ فکری طور پر مکمل یہودی اور صیہونی ہو اور مسلمانوں کے درمیان رہ کر یہودی مفادات خاص کراسرائیل کا تحفظ کرے۔یہودیوں کے لئے اسرائیل کے تحفظ کی خاطرلوگوں کو اسلام اور جہاد سے متنفر کرنا ضروری تھا۔انہیں ایک ایسے گروہ کی ضرورت تھی جو مسلمان اور مجاہد بن کر لوگوں پر اس قدر شب خون مارے کہ،چرچ،کلیسا،عوامی مراکز،بازار، مساجد،امام بارگاہیں اور اولیاء کرام کے مزارات سمیت کچھ بھی مھفوظ نہ رہے تاکہ مسلمانوں کو اسرائیل کے بجائے اپنی فکر پڑجائے۔اس گروہ کی تشکیل کے مراحل عربستان و پاکستان جیسے اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی ناک کے نیچے انجام پائے اور پھر سادہ لوح مسلمانوں کے مخلص اور دیندار بچوں کو دینی مدارس کے سائے میں جہادی کیمپوں میں بھرتی کیا جانے لگا۔ان جہادی کیمپوں کی آوٹ پٹ آج آپ کے سامنے ہے جسے دیکھ کر آپ بخوبی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کیمپوں میں بھرتی کئے جانے والے بچوں کو سو فی صد منحرف یہودیت کے عقائد کی تاریکی میں تربیت دی گئی ہے۔یہاں پر یہ عرض کرتا چلوں کہ اگر کسی کو یہود و طلبان کے فکری و عقیدتی رابطے کا یقین نہ آئےتو وہ دل کھول کر تاریخ یہودیت اور تاریخ طالبان پر تحقیق کرئے اور پھر بلاتعصب یہودی عقائد و افکار کا طالبان کے عقائد و افکار کے ساتھ موازنہ کرلے۔ہر تجزیہ و تحلیل اور ریسرچ و تحقیق کرنے والا بہت جلد اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ جوکام ماضی میں یہودی کرتے تھے ،مثلاً لوگوں کے گلے کاٹنا،عوامی مراکز کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا،مستحکم ممالک کو متزلزل کرنا،عورتوں کا استحصال کرنا،دین کے نام پر لوگوں کو ظلم و بربریت کی طرف دعوت دینا،پر امن بستیوں کو آن واحد میں کھنڈر بنا دینا،اپنے سوا باقی سب کو گمراہ سمجھنا،دوسرے مکاتب کے مفکرین اور سکالرز کو قتل کرنا،لاشوں کو درختوں اور بجلی کے کھمبوں لٹکانا،پرامن بستیوں میں خوف و ہراس پھیلانا،انسانوں کو جانوروں کی طرح ہلاک کرنا اور آستین کا سانپ بن کر ڈسنا ...وغیرہ وغیرہ آج یہ سارے کام یہودی جہادی کیمپوںمیں تربیت پانے والے طالبان کررہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے.....یاد رہے کہ جب طالبان کویہودی و صیہونی خطوط پر تربیت دی جارہی تھی تو ساتھ انہیں اسرائیل کی طرح افغانستان میں ایک ریاست قائم کرنے کا منصوبہ بھی دیا گیاجسے غیور افغانی باشندوں نےجلد ہی ناکام بنادیا۔البتہ طالبان حسب سابق دل کھول کر امریکی احکامات اور یہودی ہدایات کی تعمیل کرتے رہے۔ جب افغانستان میں اسرائیلی امدادی ریاست کاخواب پورا نہ ہوسکا تو وہ یہودیوں کی طرح زیرزمین چلے گئے اورپوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بالخصوص پاکستان اور افغانستان میں اپنی مذموم کاروائیوں کو آج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس وقت ایک طرف تو طالبان اپنی مکروہات پھیلانے میں مصروف ہیں جبکہ دوسری طرف یہودیوں کا سدھا یاہوامیڈیا کئی سالوں سےمسلسل طالبان کو مجاہدین اسلام پکارے جارہاہے۔آج ہر باشعور انسان کے لئےحیرت سے زیادہ ہنسی کی بات تو یہ ہے کہ دنیا انہیں مجاہدین اسلام کہہ رہی ہے جنہوں نے جنم ہی امریکی مفادات کی خاطر لیاہے ، جو پلے ہی پوست کی پیداوار افیون پر ہیں اور جو اسرائیل کے تحفظ کے لئے مسلمانوں کو خود کش حملوں میں آج بھی اڑا رہے ہیں۔..کیا ایسے لوگوں کو اسلام کا ہمدرد اور مجاہدین اسلام کہناکیا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ زیادتی نہیں۔ایسے میں اگر یہ لوگ کہیں پاکستان کے سیلاب زدہ علاقے میں گھس جائیں اور متاثرین سیلاب کی امداد کا ڈھونگ رچانے لگیں تو ہماری متاثرین سیلاب سے یہ پر زور اپیل ہے کہ وہ ان مشکل لمحات میں اپنے سابقہ قومی و دینی اور ملکی تجربے کو یاد رکھیں اور جوشخص بھی اپنے کاندھے پر آٹے کا تھیلا ڈھال کی طرح لٹکائے ہوئے اور ہاتھوں میں گھی کا ٹین تلوار کی طرح لہراتے ہوئے آپ کی طرف بڑھے...تو... ایک دم اپنے دانتوں کو مضبوطی سے بھینچ لیں،سینہ تان کر سانس روک کر اور پھر زور سے اچھل کر اس سے دور بھاگ جائیں اور پھر دور ہی دور سے اسے سلام کریں،آنکھوں ہی آنکھوں میں آداب بجا لائیں،پھر تھوڑے سے مسکرائیں اور پھر دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اپنی گرد ن پر گول لکیر کھینچیں،اس طرح اشاروں ہی اشاروں میں اس سے پوچھیں کہ کہیں میری گردن کاٹنے کا ارادہ تو نہیں ...اگرجواب نفی میں ملے تو دوسرا اشارہ کریں کہ کہیں مجھے اغوا تو نہیں کرنا چاہتے...اگر پھر بھی جواب نفی میں ملے تو پھر تیسرا اشارہ کریں کہ قبلہ... خودکش حملے کا ثواب تو نہیں کمانا چاہتے...جب اس طرح آپ کو تسلی ہوجائے کہ فی الحال موصوف کا اس طرح کا کوئی ارادہ نہیں تو پھر ان سے آخری سوال کریں کہ جناب خیر سے...اس بوری میں چرس ، ہیروئن یا افیون تو نہیں...جب آپ کو اچھی طرح تسلی ہو جائے تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آپ اچھل کر ان کے گلے لگ جائیں....پھر آپ کو چاہیے کہ آپ ان اسے یہ گزارش کریں کہ اے میرے پیارے اور میٹھے میٹھے مجاہد بھائی...اگرآپ مجھے مسلمان سمجھتے ہیں اور انسان سمجھتے ہیں اور میری مدد کرنے آئے ہیں ،مجھ پر احسان کرنے آئے ہیں توپھر...براہ مہربانی...میری گزشتہ سات نسلوں پر بھی ایک احسان کردیجئے...اور وہ یہ کہ...اپنی یہ نام نہاد جہادی جیکٹ جوکہ دراصل یہودی جیکٹ ہےاور نام نہاد جہادی کیمپوں میں آپ کو پہنائی گئی ہے... اسے اتار کر دور پھینکیے ...جب وہ دور پھینک دیں تو پھر شوق سے آگے بڑھیے ،ان کے گلے ملئے اور ان سے دل کھول کر مدد لیجئے ...لیکن جب وہ واپس جانیں لگیں تو ایک مرتبہ پھر ان سے عرض کیجئے کہ قبلہ "مجاہد بھائی" آپ کا بہت بہت شکریہ ...آپ نے میری گزشتہ سات نسلوں پر تو احسان کردیا ...لیکن... ایک احسان میری آئندہ سات نسلوں پر بھی کردیجیے اور وہ یہ ہے کہ...جاتے ہوئے اپنی یہ ...بدبودارجیکٹ...جس سے لاکھوں بے گناہ انسانوں کے خون اور بارودکی بو آرہی ہے...یہ جیکٹ اپنے ساتھ واپس لے جائیے ...اس لئے کہ ہم مجبور اور سیلاب زدہ ضرور ہیں لیکن اپنی آئندہ نسلوں کو آپ کی طرح دہشت وبربریت سے لبریز"امریکی اسلام" نہیں بلکہ عدل و انصاف اور مساوات و مواخات سے چھلکتاہواخالص" محمدی اسلام "سکھانا چاہتے ہیں... ہم اپنی آئندہ نسلوں کو اسرائیل کی چھتری کے نیچے نہیں بلکہ حقیقی اسلام کی روشنی میں پالنا چاہتے ہیں...یاد رکھیے "اسرائیل کی چھتری کے نیچے جو نتیجہ جہاد کا نکلا ہے وہی امداد کا بھی نکلے گا"۔
........................nazarhaffi@yahoo.com..............................