دین احمد کی قسم حق کا ولی ہے سجادآیت حق ہے امام ازلی ہے سجاد ساتھ تیرے نہيں زنجیر کی جھنکار ہے یہ قسمت دین تیرے ساتھ چلی ہے سجاد جس کے ہر لفظ نے دنیا کو اجالا بخشا تیرے خطبات کی وہ شمع جلی ہے سجاد کرکے ثابت یہ زمانے کو دکھایا تو نے ذلت زیست سے تو موت بھلی ہے سجاد ہر نشاں پاؤں کا اسلام کی تصویر بنا تیرے چلنے میں وہی شان علی ہے سجاد صبر کے چہرے پہ جو آب نظر آتا ہے یہ تیرے صبر کی ہی دریا دلی ہے سجاد پھوٹ کر چھالوں نے قدموں کو جہاں چوما