17 ستمبر 2010 - 19:30

ایک ایسے وقت جب ترکی نے اسرائیل سے صاف لفظوں ميں کہہ دیا ہے کہ اگراس نے کاروان آزادی پرحملے پرمعافی نہیں مانگی اوربین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کوتسلیم کرنے پراپنی آمادگی کا اعلان نہيں کیا تو وہ تل ابیب کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرلے گا۔

 محمود عباس کی انتظامیہ کے وزیراعظم سلام فیاض نے صہیونی حکومت کے وزیرجنگ ایہوداباراک سےملاقات کی ہے ۔یہ ملاقات اس لئے بھی مسلم دنیا اورخاص طورپرمظلوم فلسطینی عوام کے لئے حیرت اور افسوس کا باعث ہے یہ مذاکرات ایسے عالم میں انجام پائے ہيں جب عالمی برادری صہیونی حکومت کے خلاف اپنی نفرت وبیزاری کا اعلان کررہی ہے اورغزہ کا محاصرہ ختم کرنے کے مطالبے پراصرار کررہی ہے ۔صہیونی حکومت کے وزیرجنگ کے ساتھ محمود عباس کی انتظامیہ کے وزیراعظم سلام فیاض کی ملاقات کی فلسطینی گروہوں نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے صہیونی حکومت کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کے وعدے کی خلاف ورزی کرنے پر فلسطینی انتظامیہ کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ محمود عباس کی نام نہاد انتظامیہ، فلسطینی عوام کے حقوق ضا‏‏ئع کررہی ہے اوررائے عامہ کودھوکہ دے رہی ہے ۔ حماس نے اسرائیلی وزیرجنگ کے ساتھ محمودعباس کے وزیراعظم کی ملاقات کوشرمناک قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت انجام پائے ہيں جب مشرقی بیت المقدس میں صہیونی بستیوں کی تعمیر کا عمل جاری ہے اورمحدود خودمختار علاقوں میں بھی جہاں محمود عباس کی انتظامیہ کا کنٹرول بتایا جاتا ہے اسرائیلی حملے نہ صرف بدستورجاری ہیں بلکہ ان میں شدت بھی آگئي ہے ۔حماس کے ترجمان نے کہا ہے کہ صہیونی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والے کسی بھی نتیجہ کوملت فلسطین قبول نہیں کرے گی کیونکہ بنیادی طورپرمحمودعباس کی فلسطینی انتظامیہ قانونی طورپرفلسطینی عوام کی نمائندہ حکومت ہے  ہی نہیں ۔اورصہیونی حکومت بھی ایک غاصب حکومت ہے جس کی کوئي سرکاری حیثيت نہيں ہے ۔ فلسطین کی جہاد اسلامی تنظیم نے بھی محمودعباس کی انتظامیہ کے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ فلسطینی عوام کے مفادات کے برخلاف ہے ۔ اس بیان میں کہا گيا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد کاروان آزادی پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے کے بعد تل ابیب کی عالمی سطح پرہونےوالی رسوائی کے بعد اس غاصب حکومت کی شبیہ کوبہتربنانا ہے ۔عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے بھی اپنے ایک بیان میں صہیونی حکومت کے ساتھ محمودعباس کے وزیراعظم سلام فیاض کے مذاکرات پرحیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی انتظامیہ کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کے اعلان کے بعد اب مذاکرات کا یہ عمل اس بات کوثابت کرتا ہے کہ محمودعباس کی زیرقیادت فلسطینی انتظامیہ نے ایک بارپھر اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے ہيں ۔اس بیان میں کہا گیا ہے کہ محمودعباس کی انتظامیہ امریکہ اورصہیونی حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کا کوئي بھی موقع ہاتھ سے جانے نہيں دیتی اورہروقت اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لئے بے چین رہتی ہے ساتھ ہی مذاکرات ایک ایسے وقت انجام پائے ہيں جب پوری دنیا میں صہیونی حکومت کے خلاف مذمتوں کے باجود امریکہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتنیاہو کواپنے یہاں خیرمقدم کہہ کرعالمی برادری کوایک بارپھر یہ دکھانے کی کوشش ہے کہ اسرائیل کی تمام تر دہشت گردی کے بعد بھی وہ اسرائیل کا سب سے بڑا حامی ہے ۔اس کے علاوہ یہ بھی خبرہے کہ امریکی حکومت اسرائیل کے بحری بیڑے کو 22v  طیاروں سے لیس کررہی ہے جو امریکہ کا اب تک کا سب سے جدیدترین جنگی طیارہ ہے اس جدید ترین جنگی طیارے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک طیارے کی قیمت تقریبا چالیس ملین ڈالر ہے امریکہ اپنے انہی طیاروں کے ذریعہ افغانستان اورعراق میں بے گناہ شہریوں کوخاک وخون میں غلطاں کرتا رہتا ہے اور اب وہ اسرائیل کواس جدید جنگی طیارے سے لیس کرکے فلسطینی عوام کے مزید قتل عام کا راستہ ہموار کررہا ہے ۔ اس دوران امریکہ نے اسرائیلی وزیرا‏عظم کا خیرمقدم کرکے دہشت گرد صہیونی حکومت کو ہری جھنڈی دکھا دی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کا ایک بارپھرقتل عام کرسکتی ہے اورعلاقےمیں جنگ کی آگ کے شعلےدوبارہ بھڑکا سکتی ہے ۔ اس میں شک نہيں کہ آج علاقے اورعالمی سطح پراسرائیل جتنے بھی دہشت گردانہ اقدامات انجام دے رہا ہے ان سب کوامریکہ کی سرپرستی حاصل ہے ۔امریکہ اورمغربی ملکوں کی اندھی حمایت کی ہی بدولت آج غاصب اسرائیلی حکومت اس قدر گستاخ ہوگئی ہے کہ وہ کاروان آزادی جیسے بین الاقوامی قافلے پرحملہ کرکے دنیا کے مختلف ملکوں کے شہریوں کوخون میں نہلادیتی ہے ۔امریکہ کی طرف اسرائیلی حکومت سالانہ تین ارب ڈالر بلاعوض امداد دی جاتی ہے جس کا بڑا حصہ فوجی ساز وسامان پرخرچ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ سالانہ اربوں ڈالر آسان شرائط پراسرائیل کوقرض دیتا ہے جن سے اسرائیلی حکومت مغربی ملکوں کے جدیدترین اسلحے خریدتی ہے۔ اس کےعلاوہ علاقےميں اسرائیل کی طرف سے چھیڑی جانے والی جنگوں کے دوران جن میں لبنان پرتینتیس روزہ جنگ اورغزہ پر بائیس روزہ وحشیانہ جارحیت بھی شامل ہے امریکہ نے بڑی تعداد میں اسرائیل کوبھاری اورجدیدترین اسلحے فراہم کئے جن کا  کوئي حساب نہيں ہے ۔ ان اسلحوں ميں وہ غیرقانونی اسلحے بھی شامل ہيں جن کا استعمال جنیوا کنونشنوں کے سراسرمنافی ہے ۔ غزہ پراسرائیل نے اپنی بائیس روزہ جارحیت کے دوران جس میں بڑی تعداد میں فلسطینی بچے شہید ہوئے تھے فاسفورس بموں کا استمال کیا تھا جس کی تصدیق ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی کی تھی۔ ایک قابل غورنکتہ یہ بھی ہے کہ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کوبڑی تعداد میں یہ اسلحے ایک ایسے وقت فراہم کئے جارہے ہيں جب پوری دنیا کے عوام جن میں امریکی عوام بھی شامل ہيں یہ مطالبہ کررہے ہيں کہ اسرائیلی حکومت پراسلحہ جاتی پابندی عائد کی جائے ۔آج پوری دنیا کے عوام اسرائیل کی وحشیانہ اوردہشت گردانہ کاروائیوں کے جاری رہنے کے پیش نظر امریکہ کواسرائیلی جرائم میں برابر کا شریک سمجھ رہے ہيں۔ اس میں شک نہيں کہ اگرامریکہ اورمغربی ملکوں کی حمایت نہ ہوتی تو اسرائیل ایک دن بھی اپنا منحوس وجود باقی نہیں رکھ سکتاتھا یہی وجہ ہے کہ افغانستان اورعراق پرامریکہ کی وحشیانہ جارحیتوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام پر امریکہ کی ہی سرپرستی میں ہونےوالی بربریت کے پیش نظرعالمی رائے عامہ کےنزدیک واشنگٹن کے تئیں نفرتوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔البتہ جس طرح سے اسرائیل اورامریکہ کے خلاف نفرتوں کا لاوا پھوٹ رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے وہ دن دور نہيں ہے جب اسرائیل اس آگ میں بھسم ہوجائے گا اوراس کا حامی امریکہ بھی اپنا دامن اس آگ سے نہيں بچا پائے گا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110