17 اگست 2010 - 19:30

امام خمینی کی اکیسویں برسی پر رهبر انقلاب کے خطبات جمعہ: امام کی ذات کو مکتب امام سے الگ کیا جائے تو امام کا تشخص ختم ہوکر رہ جائے گا.

روز قدس اور روز عاشور نفرت انگیز اقدامات کرنے والے عناصر کی طرف سے امام کی پیروکاری کا دعوی ناقابل قبول ہے / افراد کا موجودہ حال جانچ پرکھنے کا معیار

باوفا، با استقامت اور با بصیرت ایرانیوں نے خمینی کبیر کے وصال کی اکیسویں برسی کے مراسمات کو امام راحل سے وفاداری کے اظہار کی نمائش میں بدل دیا اور ایک بار پھر اپنے زمانے کے ولی فقیہ سے ـ امام کے نورانی مکتب کے تحفظ کی تجدید عہد کا اعلان کیا۔ 

امام کی برسی بھی تھی اور روز جمعہ بھی تھا چنانچہ اسی مناسبت سے نماز جمعہ بھی تہران یونیورسٹی کی بجائے امام کے حرم میں منعقد ہوئی؛ اور امام خمینی کے جانشین برحق اور نائب امام زمانہ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی الخامنہ ای نے نماز جمعہ کے خطبے دیئے جبکہ بعض ذرائع کے مطابق نمازیوں کی تعداد اتنی تھی کہ نماز جمعہ کا یہ اجتماع تاریخ اسلام کا سب سے بڑا اجتماعِ جمعہ کہلا سکتا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے خطبوں کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

خطبہ اول

* امام خمینی انقلاب اسلامی کا سب سے بڑا اور اہم ترین معیار ہیں لیکن امام کی ذات کو مکتب امام سے الگ کیا جائے تو امام کا تشخص ختم ہوکر رہ جائے گا۔

مکتب امام خمینی (خط امام):

* مکتب امام (خط امام) کا تعارف کراتے ہوئے رہبر انقلاب نے فرمایا: خالص محمدی اسلام پر مسلسل سہارا لینا، مکتب اسلامی کے دائرے میں جاذبہ و دافعہ کی قوت کا استعمال، خدا کے وعدوں پر یقین کامل، معنوی محاسبات اور تقوی، انقلاب اسلامی کو کی آفاقیت کو مد نظر رکھنا، عوام کے کردار پر یقین، افراد کے بارے میں فیصلہ کرتے یا کچھ بولتے وقت، ان کا موجودہ حال مد نظر رکھنا، امام خمینی کے مکتب کے اہم معیارات اور موازین ہیں جن کی صحیح انداز سے تشریح ہونی چاہئے اور انہیں دائمی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 

* معاشرتی مشن خاص طور پر انقلابات میں اصولی اور بنیادی موقف کا تحفظ کسی مشن یا انقلاب کو انحراف سے بچانے کا سبب بنتا ہے اور وہ لوگ جو ہر وقت انقلابات کا تشخص بدلنے کے درپے ہوتے ہیں ان کا کوئی خاص اور معین پرچم نہیں ہوتا اور وہ اپنی شناخت کروا کر سامنے نہیں آتے بلکہ ان کی حرکت خفیہ اور غیر اعلانیہ ہوتی ہے چنانچہ انقلابات کو بچانے کے لئے معین اور مشخص معیارات کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ انحراف پیش نہ آئے۔

* انقلاب اسلامی کا اہم ترین اور بنیادی ترین معیار امام اور مکتب امام ہے جو امام کی روش، خطابات اور وصیت نامے میں جلوہ گر ہوگیا ہے۔

* امام کی معیارات کی صحیح تشریح ضروری ہے اور ان معیارات کی غلط تشریح کرنے، انہیں بھلا دینے یا خفیہ رکھنے سے معاشرے کو قطب نما (کمپاس) کی خرابی جیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور خراب قطب نما سمتوں کا صحیح تعین کرنے سے عاجز ہوتا ہے [جس کے نتیجے میں کسی علاقے میں ناواقف مسافر کھوجاتا ہے]، چنانچہ امام کا موقف اور ان کی آراء و افکار کو بالکل واضح اور روشن انداز سے واضح کرنا چاہئے... امام کی شخصیت اور ان کا تشخص بھی اسی واضح اور روشن موقف پر منحصر ہے جس نے دنیا کو لرزہ بر اندام اور ملتوں کو بیدار کردیا۔

* امام نے استکبار، رجعت پسندی اور قدامت پرستی، مغربی لبرل جمہوریت اور منافقین اور دو چہروں والے افراد کے بارے میں واضح موقف اپنایا ہے اور ہم بعض افراد یا بعض گروہوں کو خوش کرنے کے لئے امام کی موقف کو چھپا نہیں سکتے اور ہمیں ایسا کرنا بھی نہیں چاہئے کیونکہ اگر امام کی ذات سے ان کا مکتب الگ کردیا جائے تو امام کا تشخص ہی ختم ہوجائے گا اور امامت سے ان کا تشخص چھین لینا، امام خمینی کی خدمت نہیں کہلا سکتا۔

* بعض لوگ امام کے بعض افکار و نظریات کو یا تو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں یا ان کا انکار کردیتے ہیں اور افسوس کا مقام ہے کہ یہ ٹھیرا فکری رویہ وہ لوگ اپنا رہے ہیں جو کسی زمانے میں امام کے افکار کی ترویج کیا کرتے تھے یا ان کے پیروکار تھے۔

* نوجوانوں کو امام خمینی کا وصیت نامہ پڑھنے اور اس میں غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وصیت نامے میں امام کے تفکر اسی وصیت نامے میں منعکس ہوا ہے۔

* خالص محمدی اسلام امام خمینی کے مکتب کا ایک اہم معیار ہے اور امام کے تفکرات میں خالص اسلام سے مراد ظلم کے خلاف لڑنے والا، عدل و انصاف کا طالب، محرومین کا حامی اور پا برہنہ انسانوں اور مستضعفین کے حقوق کا پاسدار، اسلام ہے۔

* امام کے تفکر میں امریکی اسلام خالص محمدی اسلام کے مد مقابل کھڑا ہے۔ اور امریکی اسلام وہی تشریفاتی اور تقریباتی (Ceremonial)، ظلم اور زیادہ طلبی کے سامنے غیر جانبداری اور جابر قوتوں کے ساتھ ہمراہ ہوکر ان کی حمایت کرنے والا اسلام ہے۔ 

* امام کے نزدیک خالص محمدی اسلام کا نفاذ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ اسلام کی حاکمیت عملی صورت اپنا سکے اور امام بزرگوار اسلامی جمہوریہ کو اسلام کی حاکمیت کا مظہر اور اسلام کے نفاذ کی تمہید سمجھتے تھے اسی بنا پر امام اسلامی جمہوریہ کا تحفظ واجب ترین واجب (اوجبِ واجبات) قرار دیا کرتے تھے۔

* امام خالص اسلام کے نفاذ ہی کو انقلاب اسلامی کا بنیادی مقصد سمجھتے تھے؛ اسی بنا پر امام اپنی حیات کے آخری لمحے تک پوری قوت کے ساتھ اسلامی جمہوریہ کے تحفظ پر ڈٹے رہے اور انھوں نے دنیا کے سامنے سیاسی نظام کا ایک بالکل نیا ماڈل پیش کیا جو اسلامی شریعت اور عوام کی رائے کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ 

* مکتب امام کا ایک اہم معیار آپ کا جاذبہ اور دافعہ (Attraction and repulsion) تھا اور امام اس قوت سے مکتب اسلامی کے دائرے کے اندر رہ کر استفادہ کیا کرتے تھے لہذا سیاست کے میدان میں ہر قسم کا تولا یا تبرا بھی امام کے تفکر اور اصولوں کے عین مطابق ہونا چاہئے۔

*  امام کا جاذبہ اور دافعہ بہت وسیع تھا؛ امام خمینی کی دشمنی اور ان کا فیصلہ کن موقف صرف اور صرف اسلام کی خاطر ہوا کرتا تھا اور اس موقف میں ذاتی مسائل کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا تھا اسی وجہ سے امام اپنی ملت کی تمام اقوام اور طبقوں کو اپنی آغوش لطف میں پناہ دیا کرتے تھے لیکن کمیونسٹوں، لبرل عناصر اور مغربی نظاموں کے دلباختہ عناصر کو نہایت فیصلہ کن انداز سے دفع کیا کرتے تھے اور رجعت پسندوں کی بھی کئی بار سخت اور تلخ عبارتیں اس