7 نومبر 2026 - 23:15
3 | گروزنی کی دلدل سے پیوتن کے ظہور تک؛ مکتبِ وایمار اور روس کی انتقامی مشین کی پیدائش

پیوتن روس میں طاقت کے خلا کا نتیجہ نہیں تھے؛ وہ ایک دہائی کی شکست، ذلت اور انتشار کے بطن سے ابھرے۔ گروزنی کے کھنڈرات سے وایماری فکر کی پیدائش تک، روس ایک "آہنی مکّے والے نجات دہندہ" کے ظہور کے لئے کیونکر تیار ہؤا؟

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پیوتن روس میں طاقت کے خلا کا نتیجہ نہیں تھے؛ وہ ایک دہائی کی شکست، ذلت اور انتشار کے بطن سے ابھرے۔ گروزنی کے کھنڈرات سے وایماری فکر کی پیدائش تک، روس ایک "آہنی مکّے والے نجات دہندہ" کے ظہور کے لئے کیونکر تیار ہؤا؟

تیسرا اور آخری حصہ

اس فکری مزاحمت کا مرکز متنازعہ اخبار "زافترا" (Zavtra = Tomorrow) تھا جس کے ایڈیٹر الیگزینڈر پروخانوف (Alexander Prokhanov) تھے۔ اس اخبار نے یلتسن اور ان کے نو لبرل حلقے کو "وطن کے غدار اور واشنگٹن کے کٹھ پتلی" قرار دیا اور "قومی مزاحمت" اور "سلطنت کی شان کی واپسی" کے ادب کو فروغ دیا۔

اسی دوران، الیگزینڈر دوگین نامی ایک نوجوان مفکر نے 1997 میں اپنی شاہکار جغرافیائی سیاسی تصنیف "جغرافیائی سیاست کی بنیادیں: روس کا جغرافیائی سیاسی مستقبل" (Основы геополитики) شائع کر کے اس غیظ و غضب کا نظریاتی ڈھانچہ فراہم کیا۔ دوگین نے اعلان کیا:

1- روس کی مغرب سے لڑائی کوئی حکمت عملی یا نظریاتی جنگ نہیں ہے؛ یہ "کرہ ارضی کی تہذیب (یوریشیا/روس) اور سمندر کی تہذیب (اٹلانٹسزم/امریکہ اور برطانیہ) کے درمیان ابدی جنگ" ہے۔

3 گروزنی کی دلدل سے پیوتن کے ظہور تک؛ مکتبِ وایمار اور روس کی انتقامی مشین کی پیدائش

2- سوویت یونین کی شکست و ریخت فوجی شکست نہیں، بلکہ نظریاتی فریب سے جنم لینے والی ناکامی تھی۔

3- روس صرف تب ہی باقی رہ سکے گا جب وہ خود کو یوریشیائی سلطنت کے آزاد قطب کے طور پر از سر نو متعارف کرائے اور اپنی تاریخی سرحدیں، تزویراتی اثر و رسوخ، اور بالادستی مخالف اتحادوں کی تشکیل کے ذریعے اپنی تہذیبی قیادت واپس لے لے۔

دوگین کی کتاب فوراً روسی فوج کے جنرل اسٹاف اکیڈمی کے نصابی متن میں تبدیل ہو گئی اور مایوس فوجی افسران، کے جی بی اور سیکیورٹی اشرافیہ نے اس میں اپنا انتقامی مانیفسٹ تلاش کر لیا۔

ماسکو کا وایمار؛ قوم کی "آہنی مُکّے والے نجات دہندہ" کے ظہور کے لئے التجا

وایمار سنڈروم ایسے معاشرے کی نفسیاتی حالت ہے جس کی عزت نفس پامال ہو چکی ہو، اس کی سرزمین بکھر چکی ہو، اندر سے لُوٹ لی گئی ہو اور باہر سے ذلیل کی گئی ہو۔ (دیکھئے: جرمنی کی جمہوریہ وایمار Weimar Republic) ایسا معاشرہ کبھی لبرل ازم کی طرف نہیں جائے گا؛ یہ معاشرہ فطری طور پر پوری قوت سے "سخت جراحی، طاقت کی بحالی اور چھاؤنی نظام کے قیام" کی تلاش میں رہتا ہے؛ جس کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں سے بدلہ لے سکے۔

سنہ 1990 کی دہائی کے آخر میں روس ایک ایسے دھماکے کے لئے تیار ٹائم بم کی حیثیت رکھتا تھا جو آزادی، انسانی حقوق اور جمہوریت جیسے الفاظ سے متلی محسوس کرتا تھا۔ عوام اور سیکیورٹی ادارے ایسی شخصیت کے ظہور کے لئے بے چین تھے جو کھیل کا رخ بدل دے، زار کو قبر سے زندہ کر دے، نیٹو کی پیش قدمی روک دے اور لٹیروں کا ہاتھ کاٹ دے۔ روسی وایمار سنڈروم نے اسٹیج تیار کر دیا تھا؛ یلتسن کے ذلت بھرے دور کے خاتمے اور سینٹ پیٹرزبرگ کے راہداریوں سے ایک سرد مزاج، بے رحم اور سیکیورٹی پس منظر رکھنے والے افسر کے عروج کے لئے ماحول تیار تھا: ولادیمیر پیوتن کریملن سے صرف  ایک قدم کے فاصلے پر پر کھڑے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی سیف تبریزی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha