28 اکتوبر 2026 - 09:33
یمن کا ریاض میں سعودی وزارتِ دفاع پر میزائل حملے کا دعویٰ

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ بیلسٹک میزائل کے ذریعے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں وزارتِ دفاع کو نشانہ بنایا گیا اور میزائل براہِ راست ہدف پر لگا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے آج منگل کو ایک بیان میں کہا کہ یمنی افواج نے ریاض میں سعودی وزارتِ دفاع پر بیلسٹک میزائل داغا۔ ان کے مطابق میزائل براہِ راست ہدف پر لگا اور کارروائی کامیاب رہی۔

یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یمن کی مسلح افواج نے گزشتہ ہفتے بھی ریاض میں سعودی وزارتِ دفاع کو نشانہ بنایا تھا۔

22 اکتوبر 2026ء کو شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق، یحییٰ سریع نے اس وقت بتایا تھا کہ 48 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کے اندرونی علاقوں میں اہداف کے خلاف بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے چار فوجی کارروائیاں کی گئیں۔ ان کے مطابق، ان کارروائیوں کا پہلا ہدف ریاض میں وزارتِ دفاع کی عمارت تھی، جسے براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔

ان حملوں کے دوران دمام میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے، ینبع میں آرامکو کی تنصیبات اور ابہا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

یمن کی مسلح افواج نے آج یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے سعودی عرب کے دو فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

بیان کے مطابق، پہلے طیارے کو نجران کے ہوائی اڈے پر، جبکہ دوسرے کو خمیس مشیط میں واقع خالد ایئر بیس پر نشانہ بنایا گیا۔

یمن کی مسلح افواج نے ان حملوں کو سعودی عرب کی جانب سے جاری جارحیت اور محاصرے کے جواب میں کی جانے والی کارروائیاں قرار دیا۔ بیان میں ’’محاصرے کے جواب میں محاصرہ‘‘ اور ’’کشیدگی کے جواب میں کشیدگی‘‘ کی حکمتِ عملی جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha