اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے آج بدھ کے روز ایران، ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی و سلامتی حکام کے چار ملکی اجلاس کے حوالے سے اپنے ذاتی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھا کہ تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی شرکت سے منعقد ہونے والے حالیہ اجلاس نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ اور خطرات و چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے مذاکرات آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع فراہم کیا۔ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق ایک اہم پیش رفت ہے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ اس موقع کو دیرپا تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے اصولوں پر اتفاق، اعتماد سازی، ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام اور عملی ذمہ داریوں کی ادائیگی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نقطۂ نظر سے پائیدار سلامتی کا قیام خطے کے ممالک کی شمولیت سے ہونا چاہیے، اور اس مقصد کے لیے خطے سے باہر کی طاقتوں کی فوجی موجودگی اور مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
عراقچی نے زور دیا کہ یہ مؤقف خطے کے ممالک کی جانب سے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی ذمہ داری کے اصول پر مبنی ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے مزید لکھا کہ اسرائیلی حکومت کی شرانگیزیوں اور جارحیت کا مقابلہ کرنا بھی اسی تناظر میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ممالک کی آزادی اور خودمختاری کے دفاع اور جنگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔
آپ کا تبصرہ