بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ چین کی مشرق وسطی مطالعاتی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر لیائو بای ژی کہتے ہیں کہ ٹرمپ اس غلط تصور کے ساتھ کہ اس کا نیا حملہ آخری وار کے مترادف ہوگا، ایران پر دوبارہ حملے کے نعرے لگا رہا ہے، اور اسی منظرنامے کو دہرانا چاہتا ہے جس میں وہ گذشتہ 9 مہینوں سے ناکام رہا ہے اور کوئی مقصد حاصل نہیں کر سکا ہے۔ ایران کا جواب بہت بھاری اور اس کے نقصانات پینٹاگون اور اسرائیل کے اندازوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا۔
ویڈیو کی تفصیل:
میزبان: اگر ہم حقیقت پسند ہوں تو اس جنگ کے نقصانات بہت زیادہ تباہ کن اور غیر متوقعہ ہونگے۔
اگرچہ ان دنوں ایران کے خلاف نئی امریکی-اسرائیلی جارحیت کے بارے میں قیاس آرائیاں عروج کو پہنچی ہیں لیکن اس ممکنہ جارحیت کے اثرات کی سطح کے بارے میں امریکہ کے اندر سے بھی مختلف قسم کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
اگر امریکہ اور اسرائیل ایک بار ایران کے خلاف فوجی آپشن کا سہارا لیں تو آپ کے خیال میں، کیا واشنگٹن کے بنیادی عزائم میں تبدیلی آ سکتی ہے؟ اور تبدیلی نہ آنے کی صورت میں کیا امریکہ فوجی اقدام کے ذریعے اپنے مطلوبہ مقاصد تک پہنچ سکے گا؟
لیائو بای ژی: میں اس مرحلے میں امریکہ کی حکمت عملیوں میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں دیکھ رہا ہوں! کیونکہ حال ہی میں صرف اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکبارگی سے ایران کی فائل کو ہمیشہ کے لئے حل کرنا چاہتا ہے! جس کا لازمہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کا منصوبہ آگے بڑھانا، ہوگا۔
اس کے باوجود، لگتا ہے کہ تل ابیب کے موقف کا ٹرمپ کی طرف سے مثبت رد عمل اور ہمہ جہت ہمراہی نہیں ملی ہے۔
ٹرمپ نے صرف ان الفاظ پر اکتفا کیا ہے کہ اگر ایران، امریکہ کے درمیانی مدت کے انتخابات سے پہلے اپنا رویہ درست نہ کرے تو ممکن ہے کہ وہ اس ملک پر حملہ کرے۔
ٹرمپ کے موقف کا ضمنی مفہوم یہ ہے کہ وہ بدستور ـ ایران کا رویہ بدلنے کی غرض سے ـ ایران پر فوجی دباؤ ڈالنے کے درپے ہے تاکہ ایران کو رعایتیں دینے پر آمادہ کرے۔
لیکن یہ کہ کیا یہ پالیسی نتیجہ خیز ہوگی یا نہیں، تو اس بارے میں بہت سارے مبصرین کی رائے غیر موافق ہے۔
وجہ یہ ہے کہ واشنگٹن کی موجودہ منطق اور فروری سے پہلی کی امریکی منطق میں کوئی خاص فرق نہيں دکھائی دیتا۔
ایسی منطق جس میں بنیادی فرض یہ ہے کہ ایران کی معیشت زوال پذیر ہو چکی ہے، لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اور حکومت سے عوامی ناراضگی کا حجم برف کے گولے کی طرح مسلسل بڑھ رہا ہے، چنانچہ، ایسے حالات میں، صرف ایک دھچکا یا بیرونی مداخلت کافی ہے کہ نظام حکومت کو شکست و ریخت کے نقطے پر پہنچایا جائے!!
ٹرمپ فروری سے پہلے بھی انتہاپسندانہ خوش فہمی کی بنا پر سمجھتا تھا کہ مختصر سی مدت میں کام تمام کر دے گا!
حالانکہ تقریبا 9 مہینے اس وقت سے گذر چکے ہیں اور ٹرمپ نے نہ صرف اس تجربے سے عبرت حاصل نہیں کی ہے، بلکہ ایک بار پھر بھی وہ منظرنامہ دہرانے کے درپے بھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ