اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وسط مدتی انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنے معاندانہ دعووں اور اشتعال انگیز بیانات کو دہرایا ہے۔ علاقائی کشیدگی میں اضافے اور اس کے منفی معاشی اثرات کے باعث وہ سیاسی حلقوں اور عوامی رائے کے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے ریاست ٹیکساس کے شہر کورپس کرسٹی میں ریپبلکن پارٹی کے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے باعث عوام کو درپیش معاشی مشکلات اور بے اطمینانی کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ بحران بہت جلد ختم ہو جائے گا اور ڈیزل کی قیمتیں بھی تیزی سے نیچے آ جائیں گی۔
اپنے روایتی الزام تراشی کے انداز میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے اس تصادم کا آغاز نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان محاذ آرائی ۱۹۷۹ء سے جاری ہے۔
ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے بار بار دہرائے جانے والے بے بنیاد دعووں کو دہراتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ماضی کے مقابلے میں ایک بڑی کامیابی کے قریب ہے اور وہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ حالاں کہ ایران مسلسل اپنے جوہری پروگرام کی پُرامن نوعیت پر زور دیتا اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کی تردید کرتا رہا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں خلیج فارس کی اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے بارے میں غیر حقیقی بیانات دیتے ہوئے خطے میں تیل بردار جہازوں کی زیادہ آمدورفت کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے تشہیراتی انداز اپناتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے ان کے نام پر رکھنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
امریکہ کی داخلی منڈیوں میں پٹرول اور دیگر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ہونے والی تنقید کے جواب میں ٹرمپ نے قیمتوں میں اضافے کو ناگزیر ثابت کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان اقدامات کے آغاز سے پہلے پٹرول کی قیمت دو ڈالر فی گیلن سے کم تھی اور انہیں معلوم تھا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔ بی ٹو بمبار طیاروں کی فضائی کارروائیوں کی تعریف کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے واشنگٹن کو یہ اقدامات کرنا ناگزیر تھے۔
آخر میں امریکی صدر نے ووٹروں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مغربی ایشیا میں جاری بحرانوں سے امریکی توانائی کمپنیوں کو برآمدات کی مد میں بھاری فوائد حاصل ہوئے ہیں، جبکہ ریاست ٹیکساس تیل اور گیس کی پیداوار کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔
آپ کا تبصرہ