بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے آج (منگل 27 اکتوبر 2026) کے اجلاس میں رہبر انقلاب سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اراکین چاہتے تھے کہ میں رہبر انقلاب سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں کچھ وضاحت دوں۔ اسی لئے میں نے فیصلہ کیا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختصراً چند نکات اس ایوان میں بیان کروں:
• ان کی صحت کے بارے میں اکثر پوچھا جاتا ہے، الحمدللہ حضرت آقا بالکل صحتمند اور تندرست ہیں۔
• اس ملاقات میں جو چیز مجھے نمایاں محسوس ہوئی وہ ان کا مضبوط، توانا اور امید بھرا جذبہ ہے۔ نیز بیٹھنے اور بات کرنے کے دوران ان کی مضبوطی اور دلی سکون و اطمینان حضرت آقا کے وجود میں نمایاں ہے؛ وہ مسائل پر مکمل عبور رکھتے ہیں اور ان کی کلیات و جزئیات پر دسترس واضح ہے۔
• تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے امامِ شہید کا قتل ایک ایسا جرم تھا جس نے ہم سب کو عظیم غم میں مبتلا کیا، لیکن ہمارے رہبر کے لئے رہبرِ شہید، رہبر بھی تھے اور والد بھی۔ چنانچہ انہیں اور ان کے قریبیوں اور خاندان والوں کو جو صدمہ برداشت کرنا پڑا وہ یقیناً زیادہ بھاری تھا۔ لیکن ان کا حوصلہ حقیقتاً بلند ہے۔
• میں نے پورے وجود سے محسوس کیا کہ یہ مضبوطی اور دلی سکون اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان اور عوام پر گہرے یقین کا مظہر ہے۔
• اس اجلاس میں مختلف موضوعات سے متعلق امور پر بحث و تبادلہ خیال ہؤا اور مسائل کے جائزے اور تفصیلات کی پیروی میں ان کی باریک بینی قابل تحسین ہے۔
• وہ مختلف موضوعات پر ضروری رہنمائی فراہم کرتے رہے اور اپنے مطلوبہ نکات منتقل کرتے رہے۔
• جو چیز مجھ پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوئی وہ آنے والے افق کے بارے میں رہبر معظم کا پرامید اور مثبت نظریہ ہے۔ وہ مستقبل پر مبنی موضوعات پر زور دیتے ہیں تاکہ ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔
• ان نکات میں سے جنہیں وہ باریک بینی سے دیکھتے ہیں، ملک کے بڑے معاشی اشاریے ہیں جن کی اہمیت معیشت کے شعبے میں سرگرم ساتھی بھی جانتے ہیں۔ وہ باریک بینی سے ان اشاریوں کی پیروی کرتے ہیں اور زیادہ اندازے لگانے (Overestimation) اور کم اندازے لگانے (Underestimation) سے بچنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
• ایک اور اہم موضوع پیداواری سلسلوں (Production chains) کو منظم کرنا ہے، اور یہ تیسری بار ہے کہ انھوں نے اس موضوع کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ مجھ سے بات چیت کی۔ جنگِ رمضان کے دوران بھی انھوں نے کئی بار اس مسئلے پر زور دیا؛ خواہ خام مال کی فراہمی ہو، پیداواری سائیکل ہو یا اشیائے ضرورت کی فراہمی ہو جو بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔
• عوام کی قوت خرید کی حفاظت، عمومی معیشت پر توجہ اور خاص طور پر مسلح افواج اور میدان میں موجود مجاہدوں کی معیشت ان کی اہم تاکیدات میں شامل ہے؛ اور بلاشبہ پوری قوم جانتی ہے کہ ان عزیزوں کو ہماری اولین ترجیح میں ہونا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ