25 اکتوبر 2026 - 16:18
صیہونی میڈیا میں شامی شخصیات کی سرگرمیاں؛ اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں

شام میں جولانی حکومت کی جانب سے صیہونی ریاست کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کی کوششوں کے دوران، اس حکومت کے قریب سمجھی جانے والی بعض شخصیات صیہونی میڈیا پر آ کر تل ابیب سے مذاکرات اور دشمنی ختم کرنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جولانی حکومت سے قریبی تعلق رکھنے والی شخصیات اور اس کے حامیوں کی صیہونی میڈیا میں موجودگی کوئی نئی بات نہیں۔ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے سے پہلے بھی تحریر الشام نامی گروہ سے وابستہ عناصر، جو 2024 کے اواخر میں اقتدار میں آئے، مختلف انٹرویوز میں صیہونی ریاست کو اطمینان دلانے اور اسے ’’ردع العدوان‘‘ نامی جنگ کی صورت حال سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی جنگ کے نتیجے میں بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔

لبنان کے اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، شام میں جنگ کے برسوں کے دوران بھی تحریر الشام سے وابستہ کارکنوں اور سیاست دانوں کا یہی طرزِ عمل رہا۔ وہ مسلسل صیہونی سامعین اور ناظرین سے مخاطب ہوتے تھے۔

اب بھی، جب جولانی حکومت واشنگٹن کی ثالثی سے تل ابیب کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس کے قریب سمجھے جانے والے کارکن تعلقات کو تیزی سے معمول پر لانے، بلکہ انہیں مزید مستحکم کرنے کی راہ ہموار کرنے میں مصروف ہیں۔ حالاں کہ صیہونی ریاست کے ساتھ پہلے ہی امن معاہدے کرنے والے ممالک کے لیے بھی ایسے تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانا آسان نہیں رہا۔

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہ شخصیات ہر بار شام میں ایران کے اثر و رسوخ کے خاتمے پر زور دیتی ہیں اور اسے شام اور صیہونی ریاست کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے عمل سے جوڑتی ہیں۔ دوسری جانب، بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد جنوبی شام میں صیہونی ریاست کی فوجی موجودگی میں توسیع، فوجی اڈے قائم کرکے اس موجودگی کو مستحکم کرنے کی کوششیں، آبی وسائل پر قبضہ اور صوبہ سویداء میں ایک طرح کی خودمختار انتظامیہ کی حمایت، شام کے محاذ پر تل ابیب کے منصوبے کی حقیقت واضح کرتی ہیں۔

سکیورٹی معاہدے سے تعلقات معمول پر لانے تک

اس سلسلے کی تازہ مثال میں، ’’فہد المصری‘‘ نامی شخص، جو اس وقت ’’فری شام پارٹی‘‘ کا سربراہ ہے، نے عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم کے سیاسی و تزویراتی امور کے تجزیہ کار دانی زاکین کو انٹرویو دیا۔

اخبار الاخبار کے مطابق، المصری دمشق واپس آنے کی تیاری کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ وہاں اسے کوئی سرکاری ذمہ داری بھی سونپی جائے۔ اخبار کے ذرائع نے اس امکان کا ذکر کیا ہے، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

المصری نے اس انٹرویو میں شام میں ایک جامع حکومت کی تشکیل کو صیہونی ریاست کے ساتھ معاہدے اور سویداء کے مسئلے کے حل سے مشروط قرار دیا۔

اسی دوران، شامی نژاد امریکی کارکن میساء قبانی، جو بحرانِ شام کے آغاز میں قائم ہونے والی تنظیم ’’گلوبل جسٹس‘‘ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی نائب سربراہ ہیں، عبرانی چینل ’’مکان‘‘ کے پروگرام میں مہمان کے طور پر شریک ہوئیں۔

قبانی نے اس چینل پر آنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا: ’’اسرائیل میں انتخابات سے پہلے کے اس حساس دور میں ہم اپنی آواز اسرائیلی عوام تک کیوں نہ پہنچائیں؟‘‘

انہوں نے صیہونی ریاست سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کو اپنا دشمن نہ سمجھے۔

قبانی نے جنوبی شام میں صیہونی ریاست کی فوجی مداخلت کی مخالفت تو کی، تاہم اس مداخلت کی نوعیت یا اس کی مقدار واضح نہیں کی۔ انہوں نے اپنی مخالفت کی وجہ یہ بتائی کہ جولانی کی فوج شام کی سرحدوں کے تحفظ اور دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔

قبانی نے یہ بھی کہا کہ شام سے مقبوضہ علاقوں کی جانب ایک گولی بھی نہیں چلائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ صیہونی ریاست کو اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ نئے شام میں ایران اور حزب اللہ کی موجودگی ختم ہو چکی ہے۔

صیہونی ریاست سے امن کے بارے میں شامی عوام کی رائے پر خاموشی

قبانی نے اپنی گفتگو میں صیہونی ریاست کی حمایت حاصل کرنے کی واضح کوشش کی، لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ شامی عوام کی اکثریت صیہونی ریاست کے ساتھ امن کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا اور گفتگو کو سویداء کے مسئلے تک محدود کر دیا۔

انہوں نے دمشق کے اس مطالبے کا بھی ذکر نہیں کیا کہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد صیہونی فوج نے جن علاقوں میں پیش قدمی کی تھی، وہاں سے اسے واپس جانا چاہیے۔ اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سکیورٹی معاہدہ شام اور صیہونی ریاست کے درمیان امن کی ابتدا ہوگا۔

شام کی بعض شخصیات نے ان بیانات کو تعلقات معمول پر لانے کی کھلی دعوت قرار دیا۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صیہونی ریاست جنوبی شام میں شامی شہریوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔

قبانی کی اس چینل پر موجودگی پر بعض ناقدین نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین اور ان کا خون بھی ٹرمپ کی مداح میساء قبانی کو صیہونی ریاست کے ایک ایسے میڈیا ادارے میں جانے سے نہ روک سکا جو انتہا پسندی کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔

گلوبل جسٹس کے امریکی سیاسی اور یہودی حلقوں سے روابط

’’گلوبل جسٹس‘‘ کے ارکان میں شامی نژاد امریکی کارکن ابی شہبندر بھی شامل ہیں، جو ماضی میں پینٹاگون میں سینئر مشیر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

شہبندر نے 2012 سے 2014 کے دوران ’’سپورٹ فار سیریا‘‘ نامی تنظیم کے ذریعے فری سیرین آرمی کی تشہیر و حمایت اور اس گروہ کے ان عناصر سے امریکی رابطے قائم کرنے میں کردار ادا کیا جنہیں اعتدال پسند قرار دیا جاتا تھا۔

بعد ازاں انہی رابطوں کے ذریعے شام کے بحران کے دوران اس گروہ کو امریکہ کی جانب سے فوجی اور طبی امداد فراہم کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ وقت کے ساتھ یہ مدد امریکہ اور سعودی عرب کے ذریعے ٹینک شکن میزائل فراہم کرنے تک پھیل گئی۔

اس تنظیم کے صیہونی ریاست سے روابط کا اندازہ واشنگٹن میں یہودی برادریوں کے ساتھ منعقد ہونے والی ان نشستوں سے ہوتا ہے جن میں قبانی کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

اس رپورٹ میں ان سرگرمیوں کو اسی راستے کا تسلسل قرار دیا گیا ہے جس پر شہبندر پہلے بھی چلتے رہے ہیں۔ وہ مسلسل ’’دی ٹاور‘‘ نامی رسالے میں لکھتے تھے۔ یہ رسالہ ’’پروجیکٹ اسرائیل‘‘ نامی تنظیم شائع کرتی تھی، جس کی سرگرمیاں 2002 سے 2019 تک جاری رہیں۔

نیا شام غزہ نہیں؛ صیہونی ناظرین کے لیے میڈیا پیغام

صیہونی میڈیا میں شامی شخصیات کی موجودگی صرف کارکنوں اور سیاست دانوں کے انٹرویوز تک محدود نہیں، بلکہ بعض افراد اس سے آگے بھی بڑھ چکے ہیں۔

ان میں شامی صحافی غسان ابراہیم بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں شام کی بعض خبروں کی جانچ کرنے والی ویب سائٹس نے ماضی میں کہا تھا کہ ان کا صفحہ گمراہ کن معلومات پھیلانے کا ذریعہ رہا ہے۔

ابراہیم نے ’’سوریا فوکس‘‘ ویب سائٹ کا عبرانی زبان میں ایک ورژن شروع کیا ہے۔ صیہونی چینل ’’کان‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ورژن کے اجرا کا مقصد عبرانی بولنے والے قارئین اور ناظرین کے سامنے شام کی ایک مختلف تصویر پیش کرنا ہے۔

صیہونیوں کے لیے اپنے پیغام کو انہوں نے ان الفاظ میں سمیٹا: ’’نیا شام غزہ نہیں ہے؛ یہ حماس، حزب اللہ یا ایران بھی نہیں ہے۔‘‘

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha