26 اکتوبر 2026 - 10:31
آیت اللہ آملی لاریجانی: ظالم اور جابر حکمران صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں

مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ آیت اللہ آملی لاریجانی نے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ مغربی ممالک اور ان کے علاقائی حامیوں کے ظلم و جبر کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے ہونے سے ممکن ہے، جبکہ امریکی، صہیونی اور ان کے یورپی حامی مجرمانہ حکمران صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اہل بیت(ع) ـ ابنا کے مطابق، مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ آیت اللہ آملی لاریجانی نے اپنے ایک پیغام میں امریکی و صہیونی حکمرانوں اور ان کے یورپی حامیوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ طاقت کی زبان کے سوا ظلم و جرائم سے باز نہیں آتے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ یورپی وزرائے خارجہ ان دنوں کشیدگی میں کمی کی بات کر رہے ہیں اور یہ کہ آبنائے ہرمز کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، تاہم وہ اس مؤقف کے محرکات بھی چھپا نہیں رہے۔ ان میں سے ایک اپنی معیشتوں پر جنگ کے اثرات کی بات کرتا ہے جبکہ دوسرا ہائیڈروکاربن کی قیمتوں پر ’’انتہائی سنگین اثرات‘‘ سے خبردار کرتا ہے۔

آیت اللہ آملی لاریجانی نے کہا کہ برسوں سے ایرانی عوام اور ان اقوام پر عائد پابندیاں اور اقتصادی دباؤ، جنہوں نے مغرب کی نوآبادیاتی پالیسیوں کے سامنے سر نہیں جھکایا، ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے۔ ایران کے مظلوم عوام کے خلاف ظالمانہ جنگ اور قتلِ عام بھی اہم نہیں تھا، جبکہ فلسطین اور لبنان کے عوام پر کئی دہائیوں سے جاری قبضہ اور قتلِ عام بھی ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی ان ممالک کے عوام کی زندگی کچھ مشکل ہوئی، مذاکرات اور امن کی باتیں شروع ہوگئیں۔

آیت اللہ آملی لاریجانی نے اسے مغرب کے انسانی حقوق کے دوہرے معیار اور منافقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا اخلاقی نظام ہے جو مفاد پرستی سے جنم لیتا ہے؛ جب مفاد تقاضا کرے تو انتہائی بے رحمی سے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے اور حتیٰ کہ جرم کو تفریح کا ذریعہ بھی بنا دیتا ہے۔

انہوں نے ایرانی جنگی بحری جہاز ’’دنا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسے ایک بین الاقوامی مشق سے واپسی کے دوران 100 سے زائد ملاحوں سمیت غرق کر دیا گیا، جبکہ امریکی صدر نے بے باکی سے کہا کہ ’’ہم اسے قبضے میں لے سکتے تھے اور یہ ہمارے کام آتا، لیکن انہیں غرق کرنا زیادہ لطف بخش تھا۔‘‘

آیت اللہ آملی لاریجانی نے کہا کہ ایرانی حکام ہمیشہ واضح کرتے آئے ہیں کہ انہیں منصفانہ اور عادلانہ مذاکرات سے کوئی گریز نہیں، تاہم ایسا امن جو ایندھن کی قیمتوں کی تشویش سے جنم لے، قیمتوں میں تبدیلی کے ساتھ خود بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ مغربی ممالک اور ان کے علاقائی حامیوں کے ظلم و جبر کے مقابلے میں استقامت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

آیت اللہ آملی لاریجانی نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ امریکی، صہیونی مجرمانہ حکمران اور ان کے یورپی حامی طاقت کی زبان کے سوا ظلم اور جرائم سے باز نہیں آئیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha