بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مؤسسہ "یروشلم اسٹراٹیجی اینڈ سیکورٹی" (JISS) کی ایک رپورٹ میں، ـ جس کے مصنفین صہیونی رجیم کے دو سابق فوجی، کرنل "گابی سیبونی (Gabi Siboni)" اور بریگیڈیئر "ایرز وینر (Erez Wiener)" ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران اور یمن کی انصاراللہ کی علاقائی سمندری معاملات میں طاقت کی ایک قابل غور تصویر پیش کی گئی ہے۔
مصنفین نے رپورٹ "سمندری گذرگاہیں اور عالمی تجارت کی کمزوری" میں اعتراف کیا کہ انصاراللہ کی کارروائیوں نے بین الاقوامی تجارت کی سلامتی کو متاثر کیا، ایلات بندرگاہ کو اقتصادی بحران میں دھکیل دیا اور امریکہ کی قیادت میں سمندری اتحادوں کی کارکردگی کو ناکارہ کرکے سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔
"ایلات" یمنی طاقت کے زیر اثر
رپورٹ کا ایک اہم ترین حصہ صہیونی رجیم کی معیشت اور تجارت پر انصاراللہ کی کارروائیوں کے تباہ کن اثرات کا اعتراف ہے۔ مصنفین نے واضح کیا کہ بحیرہ احمر کے سمندری راستوں میں یمن کی رکاوٹوں نے ایلات [ام الرشراش] بندرگاہ کو طویل مدتی بحران سے دوچار کیا اور اس کے اقتصادی فوائد کا خاتمہ کر دیا ہے۔
اس رپورٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیل کو گاڑیوں کی درآمد میں ایلات بندرگاہ کا حصہ بحران سے پہلے 44 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 15 فیصد رہ گیا ہے۔
نیز، سامان کی حیفا اور اشدود بندرگاہوں میں منتقلی نے وہاں بھیڑ میں اضافہ، جہازوں سے سامان اتارنے کا وقت طویل ہو گیا ہے اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔

مصنفین کا سب سے اہم اعتراف یہ ہے کہ ایلات بندرگاہ کی سرگرمیوں کا مؤثر تعطل "انصاراللہ کے لئے ایک بڑی ادراکی کامیابی" ہے۔
ان دو سابق صہیونی فوجیوں کے مطابق، یمنی جنگجوؤں نے اسرائیلی بندرگاہ کی سرگرمیوں میں خلل ڈال کر فوجی محاذ آرائی کو اقتصادی اور سیاسی بحران میں بدل دیا اور اسرائیلی ریاست کے تجارتی حسابات پر اثر ڈالا۔
عالمی معیشت کی شریانوں پر ایران کا تسلط
اسرائیلی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے ایک اور حصے میں اسلامی جمہوریہ سمندری تجارت کے معاملات میں ایران کے اسٹراٹیجک مقام کا جائزہ لیا گیا ہے اور اعتراف کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اثر انداز ہونے کی ایران کی صلاحیت نے، باب المندب میں انصاراللہ کی موجودگی کے ساتھ مل کر، توانائی اور سامان کی منتقلی پر، دو اہم راستوں سے، دباؤ ڈالنے کا امکان، فراہم کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: محمد بختیاری
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ