اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لکھا: امریکی حکومت کی جانب سے سفارتی وعدوں کو نظرانداز کرنے اور طاقت و دباؤ کے استعمال پر اصرار کا ایرانی عوام کے مذہبی عقائد سے کیا تعلق ہے۔
ایمان، عقل و منطق کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے، جس طرح سیکولرازم بھی لازماً دانش مندی کی علامت نہیں۔ منطقی مذاکرات کو ناممکن بنانے والی چیز ایران کے مذہبی عقائد نہیں، بلکہ امریکہ کا مذاکراتی طرزِ عمل ہے؛ ایسا طرزِ عمل جو حقیقی سفارت کاری کے بجائے یک طرفہ طور پر اپنی خواہشات اور شرائط مسلط کرنے سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔
یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ دوسرا فریق رعایتیں دے، لیکن خود اس کے بدلے میں کوئی رعایت دینے پر آمادہ نہ ہوا جائے۔ اسی طرح اپنی شرائط مسلط کرکے اور دوسرے فریق کے جائز مفادات کو نظرانداز کرکے ایک پائیدار معاہدے کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی۔
ایرانی عوام کے مذہبی عقائد کے بارے میں نظریاتی تعصبات پر مبنی فیصلے کرنے کے بجائے ایران کے تزویراتی مفادات اور اس کے جائز سلامتی کے خدشات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے اپنے وعدوں کی خلاف ورزیوں اور عہد شکنیوں کا جواب دیں۔‘‘
آپ کا تبصرہ