بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ متحدہ عرب امارات لیبیا سے یمن اور سوڈان سے صومالیہ تک علیحدگی پسند قوتوں اور پراکسی جنگوں کی حمایت کے ذریعے خطے میں عدم استحکام کا معمار بن گیا ہے؛ یہ کردار اسرائیل کی عرب دنیا کو تقسیم کرنے، بحری گذرگاہوں پر کنٹرول کی حکمت عملی سے جڑا ہوا ہے جس کا حتمی نتیجہ ـ صہیونی پراجیکٹ کے مطابق ـ گریٹر اسرائیل کی تشکیل اور عرب ممالک کو صفحۂ ہستی سے مٹانا ہے۔

لیبیا میں متحدہ عرب امارات کا تخریبی کردار
معمر قذافی کے زوال کے بعد سے لیبیا جنگ، ادارہ جاتی انتشار اور بیرونی مداخلت کے درمیان ایک متحدہ حکومت قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بیرونی کھلاڑیوں میں متحدہ عرب امارات اس مقصد کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لئے سب سے زیادہ تخریبی کردار ادا کر رہا ہے۔

امارات جنرل خلیفہ حفتر کے اہم سیاسی، مالی اور فوجی حامی کے طور پر سامنے آیا، تاکہ لیبیا کے قومی اتحاد کا راستہ بند کیا جا سکے۔
امارات نے اس ملک کا استحکام مضبوط کرنے کے بجائے، اپنی مداخلتوں سے سماجی اور سیاسی دراڑوں کو مزید گہرا کر دیا، جنگ کا دورانیہ بڑھایا اور خطے کے ممالک ـ خاص طور پر قدرتی وسائل اور بحیرہ روم میں جغرافیائی سیاسی حیثیت رکھنے والے عرب ممالک ـ کی تقسیم میں اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہؤا؛ ایسے ممالک جو مزاحمت و مقاومت، بالخصوص فلسطین کی سنجیدہ پشت پناہی کر سکتے ہیں۔
یمن میں متحدہ عرب امارات کا تخریبی کردار
آج یہ واضح ہو چکا ہے کہ یمن کی تباہی صرف اندرونی تنازعات کا نتیجہ نہیں بلکہ اثر و رسوخ کے لئے علاقائی مسابقتوں کی پیداوار ہے؛ ایسی مسابقتیں جن کی قیادت متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب (وہ ملک جو ہمیشہ یمن کو اپنا پچھواڑہ سمجھتا رہا ہے) کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے عیدروس الزبیدی ـ اور طارق صالح ـ جو ان دنوں سعودیوں سے جا ملا ہے ـ جیسے دیگر افراد ـ اور "جنوبی عبوری کونسل" کی مسلسل حمایت کے ذریعے یمن کے اتحاد کو کمزور کیا اور جامع سیاسی حل تک پہنچنے کے ہر امکان کو ختم کر دیا۔
2017 میں "جنوبی عبوری کونسل" کے قیام کے بعد سے، متحدہ عرب امارات نے اس کے ساتھ کسی بھی یمنی حکومت ـ چاہے عدن میں ہو یا صنعا میں ـ کی متوازی طاقت کے طور پر سلوک کیا تاکہ تقسیم اور تنازع کی کیفیت کو مستحکم کیا جا سکے۔

ابوظہبی نے فوری طور پر عیدروس الزبیدی کو، ـ جسے اس وقت کے نام نہاد اور ریاض میں مقیم مفرور صدر عبد ربہ منصور ہادی نے عدن کے گورنر کے عہدے سے برطرف کیا تھا، ـ جنوبی علیحدگی پسند منصوبے کی سیاسی اورعسکری علامت کے طور پر اپنی طرف کا یمنی رہنما بنا دیا!
سوڈان میں متحدہ عرب امارات کا تخریبی کردار
سوڈان کے تباہ کن جنگ کی طرف پھسلنے کی وضاحت صرف اندرونی تنازعات یا سیاسی منتقلی کے مرحلے کی ناکامیوں سے نہیں کی جا سکتی۔ امارات سمیت بیرونی بازیگروں کی طرف کی بیرونی مداخلت، نے ان قوتوں کو بااختیار بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا جنہوں نے سوڈان کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا اور دائمی خانہ جنگی کو مستحکم کیا۔
متحدہ عرب امارات نے محمد حمدان دقلو، المعروف "حمیدتی" اور نام نہاد "فاسٹ سپورٹ فورسز" ملیشیا کی حمایت کے ذریعے سوڈان کے نازک انتقالی مرحلے کو ایک خونین تنازع میں بدل دیا جو وسیع تر علاقائی اہداف ـ بشمول طاقتور عرب ممالک کی تقسیم میں اسرائیل کے تزویراتی مفادات ـ کی خدمت کرتا ہے۔

صومالیہ میں متحدہ عرب امارات کا تخریبی کردار
متحدہ عرب امارات "صومالی لینڈ" کے ہیڈکوارٹر ہرجیسا میں مقیم علیحدگی پسند حکام کی سیاسی، مالی اور فوجی حمایت کے ذریعے انتہائی تخریبی کردار ادا کر رہا ہے۔
موگادیشو میں صومالیہ کی وفاقی حکومت کے دائرہ کار سے باہر علیحدگی پسند ڈھانچوں کو بااختیار بنا کر، متحدہ عرب امارات نے صومالیہ کے اتحاد کو نقصان پہنچایا، "منظم تنازع" کی کیفیت کو جاری رکھا اور وسیع تر علاقائی ایجنڈوں کو تقویت دی جو "قرنِ آفریقا" (Horn of Africa) اور بحیرہ احمر کے علاقے میں اسرائیل کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔

1991 میں صومالی لینڈ کی یکطرفہ اعلان آزادی ـ جسے کبھی تسلیم نہیں کیا گیا (اور اسرائیل نے، جو خود غیر تسلیم شدہ ریاست ہے، نے اسے تسلیم کیا ہے)ـ کے بعد سے، صومالیہ کی یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنے والی حکومتوں نے طویل المدتی استحکام کے لئے قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ لیکن متحدہ عرب امارات نے متحد صومالیہ کے دائرہ کار میں مذاکراتی حل کی حمایت کے بجائے دوسرا راستہ اختیار کیا اور صومالی لینڈ کے ساتھ نیم حکومتی شریک کی طرح کا سلوک کیا اور اسرائیل نے وہاں اڈے قائم کئے، ہم آہنگی اس سطح پر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تالیف و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ