15 اکتوبر 2026 - 14:53
ٹرمپ کا متنازع بیان: کینیڈا بالآخر امریکہ کی 51ویں ریاست بن جائے گا!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کینیڈا بالآخر امریکہ کی 51ویں ریاست بن جائے گا۔ ریاست ایریزونا میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کو کینیڈا کی ضرورت نہیں، لیکن کینیڈا کو امریکہ کی ضرورت ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا گرین لینڈ جیسا کچھ کرے گا۔ انہوں نے یہ بات امریکہ اور اس کے شمالی پڑوسی ملک کے درمیان دیرینہ اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کینیڈا امریکہ کے ساتھ بہت برا سلوک کرتا رہا ہے، لیکن اب ان کے اقتدار میں آنے کے بعد صورت حال مکمل طور پر بدل گئی ہے۔

امریکی صدر نے کینیڈا کی جانب سے دودھ پر محصولات، گاڑیاں بنانے والی فیکٹریوں کی امریکہ منتقلی اور جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے امریکی جھیل رکھنے جیسے معاملات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کینیڈا نے دو بوتلوں سے زیادہ دودھ پر محصولات عائد کرکے امریکہ سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔

ٹرمپ نے کہا: آخرکار وہ امریکہ کی 51ویں ریاست بن جائیں گے، کیونکہ یہی واحد راستہ ہے۔ ہمیں ان کی ضرورت نہیں، لیکن انہیں ہماری ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ واشنگٹن ایک ایسے ملک کی حمایت کے لیے اربوں ڈالر کیوں خرچ کرے جو امریکہ کا حصہ نہیں۔ گرین لینڈ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے امریکہ کے لیے مزید فوائد حاصل ہوں گے اور اس کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جائے گا۔

ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے دن سامنے آئے جب کینیڈا میں امریکی سفیر پیٹ ہوئکسٹرا نے کہا کہ بعض کینیڈین سیاست دانوں کے اقدامات نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی انتخابی مقابلے میں سیاسی مداخلت کے زمرے میں آسکتے ہیں۔

سفیر کا اشارہ کینیڈا کی وزیر صنعت میلانی جولی کے اگست میں دیے گئے بیان کی جانب تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کینیڈا کے جوابی محصولات اس انداز سے مرتب کیے گئے ہیں کہ امریکہ کی مخصوص ریاستیں ان سے متاثر ہوں۔ ہوئکسٹرا کے مطابق، امریکی انتخابی اصولوں کے تناظر میں ان اقدامات کو انتخابی مداخلت سمجھا جاسکتا ہے۔

ٹرمپ اپنی دوسری صدارتی مدت کے دوران کئی دوسرے ممالک کے انتخابات اور سیاسی معاملات پر بھی تبصرے کرچکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر انہوں نے کہا تھا کہ یوکرین میں نئے صدر کے انتخاب کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ولودیمیر زیلنسکی روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے کافی کوشش نہیں کر رہے اور امریکہ میں ڈیزل کی بلند قیمتوں کا ذمہ دار بھی انہیں قرار دیا۔

اسی ماہ کے آغاز میں ٹرمپ نے برازیل کے انتخابات کے دوران فلاویو بولسونارو کی حمایت کی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے ہنگری کے سابق وزیراعظم وکٹر اوربان کی بھی حمایت کی تھی، جو اپریل میں ہونے والے انتخابات میں شکست کھا گئے تھے۔

امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے سیاسی وجوہات اور کیوبیک و البرٹا کے آئندہ صوبائی انتخابات کے پیش نظر تجارتی مذاکرات روک دیے ہیں۔

ستمبر میں کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر نئے جوابی محصولات کے اعلان کے بعد برٹش کولمبیا کے صوبائی سربراہ ڈیوڈ ایبی نے کہا کہ صوبہ امریکہ کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں پر نئے بورڈ نصب کرے گا، جن پر لکھا ہوگا: ہم کبھی امریکہ کی 51ویں ریاست نہیں بنیں گے۔

ٹرمپ کے وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے گزشتہ ماہ اونٹاریو کا حوالہ دیتے ہوئے اسے امریکہ کی 51ویں ریاست قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ہماری 51 ریاستوں میں آخری ریاست ہوگی۔

یہ بیان کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے اس مطالبے کے جواب میں سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے ٹرمپ حکومت سے تجارتی مذاکرات میں سنجیدہ رویہ اختیار کرنے پر زور دیا تھا۔ جون میں کینیڈا کے تکنیکی کساد بازاری میں داخل ہونے کے بعد بھی ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی تجویز دہرائی تھی، جس پر ملک بھر کے حکام نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔

اونٹاریو کے صوبائی سربراہ ڈگ فورڈ نے اس وقت کہا تھا کہ امریکی صدر نے ایک بار پھر تکبر اور بالادستی کا لہجہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کینیڈا کی خودمختاری فروخت کے لیے نہیں ہے اور کہا کہ ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کینیڈا کا امریکہ کی ریاست بننا کبھی بھی، کسی صورت ممکن نہیں ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha