اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، سید عمار حکیم نے بغداد میں مصری وزیر خارجہ کا استقبال کیا۔ ملاقات کے دوران انہوں نے بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس کے آغاز پر مبارک باد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس خطے اور اسلامی ممالک کے بحرانوں کے حل کے لیے حقیقت پسندانہ راستے تجویز کرنے میں کامیاب ہوگا۔
عمار حکیم نے عرب اور اسلامی دنیا میں مصر کے مقام کا حوالہ دیتے ہوئے اس ملک کے تاریخی کردار، تہذیبی و ثقافتی ورثے، سیاسی تعلقات اور اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، یہ صلاحیتیں قاہرہ کو خطے کے مختلف فریقوں کے درمیان اختلافات کم کرنے اور امن و استحکام کی بحالی میں مدد دے سکتی ہیں۔
عراق کی قومی حکمت تحریک کے سربراہ نے بغداد اور قاہرہ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں توسیع سے دونوں ملکوں اور ان کے عوام کے مشترکہ مفادات کو فروغ ملے گا۔
ملاقات کے ایک اور حصے میں عمار حکیم نے داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے خاتمے کے بعد عراق کی صورتِ حال پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اس مشن کا اختتام عراق میں حالات کی بہتری کا پیغام اور اس پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کی علامت ہے۔
انہوں نے آخر میں عراق میں داخلی ہم آہنگی برقرار رکھنے اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان اعتماد اور اطمینان پیدا کرنے والے پیغامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق، یہ طرزِ عمل قومی اتحاد کو مضبوط بنانے اور ملک کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ