9 اکتوبر 2026 - 20:38
سعودیوں کو امریکیوں کی امداد/ سعودی عہد شکنیاں / واشگٹن کو درپیش دشواریاں

امریکہ سعودی عرب کو فوجی انٹیلیجنس فراہم کر رہا ہے۔/ امریکہ کو سعودی اتحادیوں کے ساتھ دفاعی وعدے پورے کرنے ہیں، لیکن ساتھ ہی ایک اور فوجی تنازع میں پھنسنے کے نتائج بھی جانچنا پڑ رہے ہیں۔ / سعودی عرب مسلسل عہدشکنی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے آئے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ||

امریکہ سعودیوں کو انٹیلی جنس امداد فراہم کر رہا ہے

امریکہ سعودی عرب کو فوجی انٹیلیجنس فراہم کر رہا ہے، جس میں انصاراللہ کی افواج کے ٹھکانے اور سعودی طیاروں کو ایندھن کی فراہمی شامل ہے، اور 200 سے زائد امریکی انٹیلیجنس و فوجی تجزیہ کار اس کوشش میں شامل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) نے کہا کہ واشنگٹن سعودی عرب کے ساتھ دفاعی و سلامتی معاہدے پر قائم ہے۔

تاہم امریکہ نے انصاراللہ کے خلاف آزادانہ حملے نہیں کئے اور ٹرمپ گذشتہ سال انصاراللہ کے ساتھ قائم جنگ بندی کو توڑنے میں محتاط دکھائی دیتا ہے۔

امریکہ مشکل صورتحال میں الجھا ہؤا ہے

امریکہ کو سعودی اتحادیوں کے ساتھ دفاعی وعدے پورے کرنے ہیں، لیکن ساتھ ہی ایک اور فوجی تنازع میں پھنسنے کے نتائج بھی جانچنا پڑ رہے ہیں، خاص طور پر جب ایران کے ساتھ جنگ ابھی نتیجہ خیز نہیں ثابت ہوئی۔

دریں اثنا سعودی عرب نے پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے (نام نہاد "مکہ اتحاد") کو فعال کر دیا ہے، جس نے مبہم مشترکہ بیان میں کہا کہ ترک اور پاکستانی افواج سعودی فوجی کوششوں میں شامل ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے مخصوص کردار کا تعین نہیں کیا گیا۔

ایران کے خلاف جنگ نے سعودی تیل برآمدی صلاحیت کو شدید کمزور کر دیا ہے، جس سے سعودی عرب پر انصاراللہ کو زیادہ دباؤ ڈالنے کا موقع ملا ہے۔

ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی (Chris Murphy) نے ریاض میں ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد کہا کہ سعودی عرب نہ صرف انصاراللہ کے آزاد کردہ علاقوں کو واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ ممکنہ طور پر مزید پیش قدمی کا ارادہ بھی رکھتا ہے، جس سے یمن میں ایک اور طویل المدتی فوجی تنازع میں پھنسنے کا خطرہ پیدا ہؤا ہے۔

مورفی نے  مجموعی صورتحال کو "مکمل علاقائی جنگ" قرار دیا۔

سعودی عرب عہد کی پابندی نہیں کرتا

اقوام متحدہ کے یمن مذاکرات سے واقف ایک شخص کے مطابق سعودی عرب ایران کے تنازع کے مستحکم ہونے تک، انصاراللہ کے ساتھ گہرے مذاکرات کا انتظار کرنا چاہتا تھا، لیکن یمنیوں نے انتظار کے بجائے [سعودی حملوں کے جواب میں] کشیدگی بڑھا دی۔

انصاراللہ کا کہنا ہے کہ اس نے 2022 کی جنگ بندی اس لئے ترک کی کہ سعودی عرب نے یمن کی ناکہ بندی ختم کرنے کے اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا، اور جولائی میں صنعا ہوائی اڈے پر فضائی حملے کئے بھی کئے۔

تاہم ماہر کرسٹن اسمتھ دیوان (Kristin Smith Diwan) کے مطابق، اگرچہ مستقبل قریب میں مذاکرات نہ بھی ہوں، اور گوکہ سعودی عرب مسلسل عہدشکنی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے آئے ہیں لیکن یمن تنازع کے فریقین کے درمیان خفیہ رابطے عام طور پر جاری رہتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: میثم یعقوبی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha