9 اکتوبر 2026 - 20:33
سعودیوں کا خطرناک جوّا، امریکیوں کی زندگی پر دوہرا بوجھ

اہم سعودی تیل پائپ لائن کی سرگرمی معطل کرنے کے بعد، اس تنازع کے اثرات امریکی شہریوں کی روزمرہ زندگی پر پڑنے لگے ہیں۔/ اگرچہ وائٹ ہاؤس براہ راست اس جنگ میں ملوث نہ ہو، ووٹرز یمن کے تنازع کو ایران کے ساتھ غیر مقبول جنگ کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں گے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ||

یمن کے خلاف جنگ بھی امریکیوں کی زندگیوں پر بوجھ

یمن کی جانب سے سعودی بحری جہازوں کی بحری ناکہ بندی اور سعودی عرب کی ایک اہم تیل پائپ لائن کی سرگرمی معطل کرنے کے بعد، اس تنازع کے اثرات امریکی شہریوں کی روزمرہ زندگی پر پڑنے لگے ہیں۔

ریپبلکن اسٹریٹیجسٹ میتھیو بارٹلیٹ (Matthew Bartlett) کے مطابق، اگرچہ امریکی ووٹرز یمن کے ساتھ تنازع کی تفصیلات سے واقف نہ بھی ہوں، لیکن مارکیٹوں کا ردعمل ان کے رویے کو متاثر کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں کے لئے اہم چیز یہ ہے کہ وہ زندگی کے اخراجات اور پٹرول کی قیمت برداشت کر سکیں۔

ایران کے ساتھ جنگ کے انتظام اور پٹرول کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے نتیجے میں ٹرمپ کی مقبولیت میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔

اگرچہ امریکہ پردے کے پیچھے سعودیوں کی مدد کر رہا ہے، لیکن ٹرمپ نے ابھی تک انصاراللہ کے خلاف امریکی فضائی حملوں کا حکم نہیں دیا۔

سعودی عرب میں سابق امریکی سفیر مائیکل ریٹنی (Michael Ratney) کے مطابق، جب تک حوثی (انصاراللہ) باب المندب کے علاقوں پر قابض رہیں گے اور سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون داغتے رہیں گے، سعودی کشیدگی میں کمی کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

سعودیوں کا خطرناک جوّا

ریپبلکن اسٹراٹیجسٹ الیکس کونانٹ (Alex Conant) کا ماننا ہے کہ اگرچہ وائٹ ہاؤس براہ راست اس جنگ میں ملوث نہ ہو، ووٹرز یمن کے تنازع کو ایران کے ساتھ غیر مقبول جنگ کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں گے، اور ایران و انصاراللہ کے تعلقات کی وجہ سے ان دونوں جنگوں کے مزید مربوط ہونے کا امکان بڑھ رہا ہے۔

ان کے مطابق، وسط مدتی انتخابات کے قریب ریپبلکنز کو اس صورتحال کی ذمہ داری قبول کرنا پڑے گی، اور ٹرمپ کی کوششوں کے باوجود وائٹ ہاؤس کے پاس اس بحران سے عوام کی توجہ ہٹانے کے ذرائع محدود ہیں۔

ماہر برٹ ایرکسن (Brett Erickson) نے سعودی عرب کی جانب سے تنازع کے جلد سفارتی خاتمے میں بے رغبتی کو "انتہائی خطرناک جوّا" قرار دیا اور کہا کہ سعودی عرب حوثیوں کے حملوں کو روکنے کی بہت محدود صلاحیت رکھتا ہے۔

جولائی میں انصاراللہ کی بحری ناکہ بندی کے بعد سعودی تیل کی برآمدات پہلے ہی متاثر ہو چکی ہیں، اور آبنائے باب المندب سے سعودی پرچم والے جہازوں کی آمدورفت تقریباً مکمل طور پر بند کر چکے ہیں؛ جبکہ تیل کے ٹینکروں کی آمدورفت میں ایک چوتھائی سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: میثم یعقوبی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha