9 اکتوبر 2026 - 14:12
پہلی قسط | طوفان الاقصیٰ بالکل بروقت اور اپنے لمحے میں پیش آیا، امامِ شہیدِ انقلاب

طوفان الاقصیٰ کے واقعے میں دو بنیادی نکات ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے؛ دو بنیادی اور اہم نکات۔ ایک نکتہ یہ ہے کہ یہ طوفان الاقصیٰ آپریشن جو گذشتہ سال [سنہ 2023ع‍ میں] 7 اکتوبر کو پیش آیا، بالکل خطے کی ضرورت تھا؛ ہمارے خطے کو اس آپریشن کی ضرورت تھی؛ یہ خطے کی ایک بڑی ضرورت [اور بڑے تقاضے] کا جواب تھا جس کی وضاحت میں کروں گا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امامِ شہیدِ انقلاب نے فرمایا: طوفان الاقصیٰ کے واقعے میں دو بنیادی نکات ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے؛ دو بنیادی اور اہم نکات۔

ایک نکتہ یہ ہے کہ یہ طوفان الاقصیٰ آپریشن جو گذشتہ سال [سنہ 2023ع‍ میں] 7 اکتوبر کو پیش آیا، بالکل خطے کی ضرورت تھا؛ ہمارے خطے کو اس آپریشن کی ضرورت تھی؛ یہ خطے کی ایک بڑی ضرورت [اور بڑے تقاضے] کا جواب تھا جس کی وضاحت میں کروں گا۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ آپریشن صہیونی رجیم پر ایک فیصلہ کن وار تھا؛ ایسی ضرب جس کا کوئی علاج موجود نہیں ہے، اور صہیونی رجیم اس ضرب کے نتیجے میں ایسی مصیبتوں میں مبتلا ہو گئی ہے جن سے وہ نجات نہیں پائے گی۔

لیکن وہ پہلا نکتہ جو ہم نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ آپریشن بالکل خطے کی ضرورت کے لمحے میں پیش آیا، اس کی وضاحت یہ ہے کہ امریکہ اور صہیونی عناصر اور ان کے پیروکاروں اور خطے کی بعض حکومتوں کی طرف سے ایک جامع [اور] وسیع منصوبہ تیار کیا گیا تھا جس کے مطابق خطے کے تعلقات اور معاملات کو تبدیل ہونا تھا۔ صہیونی رجیم کا خطے کی حکومتوں کے ساتھ تعلق اسی حکومت کی خواہش کے مطابق طے ہونا تھا اور اس کا مطلب پورے مغربی ایشیا بلکہ پوری اسلامی دنیا کی سیاست اور معیشت پر صہیونی رجیم کا تسلط قائم ہونا تھا؛ انہوں نے ایک وسیع منصوبہ تیار کیا تھا جس کا نتیجہ یہی تھا۔

یہ منصوبہ بہت سی تمہیدات کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تھا؛ امریکہ اس منصوبے کے پیچھے تھا، برطانیہ اس منصوبے کے پیچھے تھا، عالمی صہیونیوں کی جماعت اس منصوبے کے پیچھے تھی، خطے کی بعض حکومتیں اس منصوبے میں سنجیدگی سے تعاون کر رہی تھیں؛ یہ منصوبہ اپنے آخری لمحات تک پہنچ چکا تھا؛ یعنی تھوڑا ہی وقت باقی تھا کہ یہ منصوبہ اور طویل المدتی نقشہ عملی نفاذ کے مرحلے تک پہنچ جائے۔ ایسے حساس لمحے میں طوفان الاقصیٰ کا حملہ شروع ہؤا اور دشمن کے تمام منصوبوں کو تباہ کر گیا۔

7 اکتوبر کے طوفان نے دشمن کے بڑی احتیاط سے تیار کردہ نقشے کو باطل کر دیا اور اس صورتحال کے ساتھ جو ان آٹھ مہینوں میں [طوفان الاقصیٰ کے آپریشن کے آغاز سے جون 2024 تک] پیدا ہوئی ہے، اس بات کی زیادہ امید نہیں کہ وہ اس نقشے کو دوبارہ زندہ کر سکیں گے۔ ایک بڑا اہم کام انجام پایا۔ یہ جو آپ دیکھتے ہیں کہ صہیونی رجیم اس شدت اور بے رحمی سے غزہ کے نہتے عوام پر حملہ کر رہی ہے، یہ حکومت کا اس نقشے کے باطل ہونے پر تناؤ زدہ اضطرابی ردعمل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب، 4 جون 2024ع‍

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha