بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکہ میں سینیٹ کے وسط مدتی انتخابات کے ڈیموکریٹ امیدوار "ال سید" نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں یہ سوال اٹھایا کہ "امریکہ اس جنگ میں کیوں داخل ہؤا، اس کا مقصد کیا ہے، اس سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے اور اس کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟"
ال سید نے جنگ کے امتداد پر تنقید کرتے ہوئے کہا: "ہم اس وقت ایسی صورتحال میں ہیں جہاں ہم امن کا انتخاب کر سکتے تھے، لیکن اس کے بجائے ہم نے جنگ کا انتخاب کیا۔"
انھوں نے مزید کہا: "جنگ نے امریکی عوام کو معاشی اور انسانی لحاظ سے متاثر کیا ہے نتائج مرتب ہوئے ہیں اور جنگ نے ہماری سلامتی کو کمزور اور ہمیں زیادہ غیر محفوظ محفوظ بنا دیا ہے۔ اس نے قیمتیں بڑھا دی ہیں اور ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ایک دن بعد قیمتیں کہاں پہنچ جائیں گی۔"
اس ڈیموکریٹ امیدوار نے توانائی کی منڈی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "جنگ نے آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی منتقلی میں خلل ڈالا ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔"
فاکس نیوز کے میزبان نے ان اظہارات کے جواب میں یہ دعویٰ مسترد کیا اور وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "آبنائے ہرمز اور اس خطے سے تیل کی منتقلی تقریباً جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی ہے اور توقع ہے کہ قیمتیں بھی کم ہوں گی؛" تو ال سید نے جواب دیتے ہوئے کہا: "آپ کا یہ دعویٰ وہ چیز نہیں ہے جو مشی گن کے لوگ پٹرول پمپ پر جا کر دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔"
انھوں نے زور دے کر کہا: "جنگ کے نتائج صرف پٹرول کی قیمت تک محدود نہیں ہیں اور معاملہ صرف پٹرول کی قیمت نہیں ہے؛ خوراک کی قیمت بھی ہے۔"
ال سید نے امریکی افواج کو پہنچے ہوئے نقصانات کا بھی حوالہ دیا اور کہا معاملہ 18 امریکی فوجیوں کا ہے جنہوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔" [واضح رہے کہ امریکی فوج اپنے جانی نقصان سنسر کرتی ہے اور اصل تعداد شاید سینکڑوں گنا بڑی ہے۔]
ال سید نے مزید دعویٰ کیا: "خطے میں بھیجے گئے امریکی فوجی دستے، سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے پاس درکار وسائل یا راشن موجود تک دستیاب نہیں ہے۔"
فاکس نیوز کے میزبان کی ایران کے خطرے کے بارے میں دلیل دینے کی کوشش کی تو ال سید نے بارک اوباما کے دور صدارت کے جوہری معاہدے کا حوالہ دیا اور کہا: "اس وقت یہ خطرہ قابو میں تھا، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے اس معاہدے کو ترک کر دیا۔"
ال سید نے سوال اٹھایا: "کیا زیادہ جنگ واقعی امریکہ کو زیادہ محفوظ بناتی ہے یا نہیں" اور خود ہی جواب دیا: "میرے خیال میں وہ نکتہ جسے ہمیں اب بھی سیکھنا ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں کم جنگ، عام طور پر زیادہ سلامتی کے ہم معنی ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ