اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سید عباس عراقچی نے سفیروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خارجہ پالیسی کے میدان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مؤقف کی وضاحت کی اور کہا کہ ایران کی مضبوط پالیسی بیک وقت ’’باوقار سفارت کاری‘‘ اور ’’قومی سلامتی کے بھرپور دفاع‘‘ پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمنوں کے لیے ایران کا واضح پیغام یہ ہے کہ ایران سفارتی ذرائع سے منصفانہ حل تک پہنچنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، لیکن اگر کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت دوبارہ کی گئی تو اس کا پہلے سے کہیں زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
وزیر خارجہ نے نیویارک میں ایرانی وفد کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی وفود کی جانب سے ایران کے مؤقف اور پیش کردہ تجاویز کا غیر معمولی خیرمقدم اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کو سیاسی طور پر تنہا کرنے کا امریکی اور صیہونی منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے۔
عراقچی نے ایرانی وفد کو امریکہ سے نکالے جانے کے امریکی حکام کے دعوے کے ردعمل میں کہا کہ یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی وفد اپنے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق امریکہ گیا اور واپس آ گیا۔
آپ کا تبصرہ