اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، صدر تبون نے کہا کہ الجزائر کا کسی فریق سے کوئی تنازع نہیں اور اگر کوئی ملک الجزائر کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے کامیابی نہیں ملے گی، کیونکہ ان کا ملک آبنائے ہرمز کے بحران کا فریق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ الجزائر آبنائے ہرمز کے معاملے میں کسی بھی ثالثی کے لیے تیار ہے اور امن پسند ملک ہونے کے باعث اس کے بحری جہاز اس راستے سے گزر رہے ہیں۔
الجزائری صدر نے امارات کی افریقی ممالک میں مبینہ مداخلت اور مسلح باغیوں کی حمایت پر بھی کڑی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امارات باغیوں اور کرائے کے جنگجوؤں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور واضح کیا کہ شہدا کی سرزمین فروخت کے لیے نہیں ہے۔
آپ کا تبصرہ