اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،یمنی ذرائع کے مطابق صنعا فورسز نے عدن کے البریقه علاقے میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے ایک کمانڈ مرکز کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہاں ایک فوجی اجلاس جاری تھا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حملے میں میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے اور مرکز کے قریب اسلحے کے گوداموں میں بھی دھماکے اور آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی صنعا پر سعودی جنگی طیاروں کے حملوں اور عدن میں ایک نئے اسلحہ کھیپ کی آمد کے بعد کی گئی۔ یمنی ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور جنوبی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
جنوبی یمن کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں کے بعد سعودی عرب نے مزید حملوں کے خدشے کے پیش نظر عدن میں اپنے حمایت یافتہ دستوں کے بعض کیمپ خالی کرنا شروع کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق راس عباس اور جبل حدید سمیت بعض فوجی مراکز سے اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی گاڑیوں کی منتقلی بھی شروع کی گئی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں عدن کے بعض علاقوں میں دھماکوں اور آگ کے مناظر دکھائے گئے، تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
یمنی ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ حملوں میں متعدد سعودی اہلکار اور فوجی ہلاک ہوئے اور اسلحے کے گوداموں اور فوجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
دوسری جانب تعز کے جنوبی محاذوں پر پیش قدمی کے بعد صورتحال میں تبدیلی کی اطلاعات ہیں۔ یمنی ذرائع کے مطابق صنعا فورسز نے کئی علاقوں میں کنٹرول حاصل کرلیا ہے جبکہ بعض مقامات پر سعودی حمایت یافتہ گروپس کو پسپائی کا سامنا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انصاراللہ نے تعز کے جنوبی علاقوں میں متعدد مقامات پر پیش قدمی کرتے ہوئے تعز اور عدن کے درمیان اہم سپلائی راستوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
مقامی قبائلی ذرائع کے مطابق انصاراللہ اور علاقے کے قبائلی عمائدین کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں، جن کے نتیجے میں بعض علاقوں میں لڑائی کے بغیر کنٹرول منتقل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یمنی ذرائع کا کہنا ہے کہ تعز کے مختلف محاذوں پر پیش قدمی کے باعث سعودی حمایت یافتہ گروپس کے درمیان رابطے اور سپلائی لائنز متاثر ہوئی ہیں اور لڑائی جنوبی علاقوں سے مشرقی اور مغربی محاذوں تک پھیل رہی ہے۔
دوسری جانب سعودی میڈیا سے منسوب رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشرقی صوبے میں خریص، بقیق، جبیل اور غوار آئل فیلڈ سے منسلک بعض تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
یمنی میڈیا نے عین دار کے علاقے میں بھی حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تعز میں جاری پیش قدمی اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف حملوں کے ساتھ یمن کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں، جس سے خطے میں جاری تنازع کی شدت برقرار رہنے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
آپ کا تبصرہ