بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے پریس ٹی وی کے ساتھ اپنے مکالمے میں، امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: تازہ ترین سفارتی پیش رفت اور مذاکرات کے پیش نظر، ایران کے سفارت کاری کا طریقہ بھی بدل گیا ہے؛ ہم نے تین مرتبہ مذاکرات کئے اور ہر بار امریکیوں نے مذاکراتی عمل ادھورا چھوڑ دیا اور ایران پر حملہ کیا؛ لہٰذا ہم دوبارہ سابقہ سفارتی نمونوں کی طرف نہیں لوٹیں گے۔
انھوں نے کہا: جب کوئی معاہدے پر دستخط کرتا ہے اور پھر اس سے نکل جاتا ہے، تو فطری طور پر آپ کو اس کے ساتھ سفارت کاری میں مختلف رویہ اختیار کرنا چاہئے ہوتا ہے۔
جنرل رضائی نے کہا: ہم نے کبھی سفارت کاری ترک نہیں کی اور ترک نہیں کریں گے، لیکن ہم نے اپنی سفارت کاری کی روش بدل دی ہے اور سابقہ طریقوں کی طرف واپس نہیں جائیں گے۔
ایران کی سات شرائط پر امریکہ کا موصولہ جواب ناکافی ہے
اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے کہا: گذشتہ دو مہینوں کے دوران، امریکیوں نے پاکستان، قطر اور حتیٰ کہ عراق کے ذریعے ہمیں تجاویز دی ہیں اور درخواست کی ہے کہ ہم انہیں اپنی تجاویز پیش کریں۔
انھوں نے کہا: تقریباً دو ہفتے پہلے، ہم نے امریکیوں کی درخواست پر اپنی سات شرائط کا اعلان کیا اور واضح طور پر کہا کہ جب تک یہ شرائط پوری نہ ہوں، آبنائے ہرمز ان کے لئے کھلے گا اور کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا: امریکیوں نے اب ہمیں جواب دیا ہے؛ اپنے جواب میں انہوں نے ہماری کچھ شرائط قبول کی ہیں، لیکن کچھ دیگر کی صورتحال اب بھی غیر واضح ہے اور ابہامات موجود ہیں۔
جنرل رضائی نے دوٹوک الفاظ میں کہا: ہم اب امریکیوں کو جواب دینے کے مرحلے میں نہیں ہیں؛ انہوں نے ہمیں جواب دیا ہے اور ہم ان کے جواب کو ناکافی سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر محسن رضائی نے کہا: امریکیوں کو ان مسائل کی وضاحت دینا ہوگی جو ہمارے لئے مبہم رہ گئے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا وہ ہمارے ابہامات دور کر سکتے ہیں، جس کے بعد ہم اگلے مراحل شروع ہو سکیں یا نہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ