1 اکتوبر 2026 - 16:18
اسپین: مسلمانوں کی قبروں کو 5 سال بعد دوبارہ استعمال کرنے کی تجویز کا جائزہ

اسپین کے شہر والنسیا میں مسلمانوں کی تدفین کی موجودہ ضروریات پوری کرنے کے لیے قبروں کو برقرار رکھنے اور کم از کم پانچ سال بعد بعض قبروں کو دوبارہ استعمال کرنے کی تجویز کا قوانین کے دائرے میں جائزہ لیا گیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسپین کے شہر والنسیا میں شہری حکام اور مسلم برادری کے نمائندوں نے مسلمانوں کی تدفین کی صورتحال کا جائزہ لینے اور دستیاب جگہ کے بہتر انتظام کے لیے مشترکہ اجلاس منعقد کیا۔ یہ اجلاس والنسیا کے سرکاری قبرستان میں مسلمانوں کے لیے مختص حصے کی توسیع کے منصوبے پر جاری کام کے دوران منعقد ہوا۔

اجلاس میں والنسیا کے سرکاری قبرستان کے منتظم اور مسلم برادری کے نمائندے نے اس قبرستان کے قانونی و انتظامی امور کے ذمہ دار کی موجودگی میں دستیاب جگہ کے بہتر استعمال اور مسلمانوں کی موجودہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا۔ پیش کی جانے والی تجاویز میں سے ایک یہ تھی کہ متوفین کو موجودہ قبروں میں برقرار رکھا جائے اور بعض قبروں کو کم از کم پانچ سال گزرنے کے بعد قوانین کے دائرے میں دوبارہ استعمال کیا جائے۔ اس عمل میں میت کی جنس، خاندانی تعلقات اور اسلامی تدفین کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔

اس منصوبے کا مقصد قبرستان کی جگہ کا بہتر انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری طور پر قبریں کھودنے سے گریز اور مسلمانوں کی تدفین میں اسلامی اصولوں اور رسومات کی پاسداری یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ خاندانوں میں زیادہ شفافیت اور اعتماد پیدا کرنے کے لیے قبروں کی ملکیت اور انتظام کے طریقہ کار پر بھی بات چیت کی گئی۔

اجلاس کے بعد قبرستان کے خدماتی شعبے کے ذمہ دار نے مسلم برادری کے نمائندے کے ہمراہ قبرستان کے قطعہ نمبر 14 کا دورہ کیا تاکہ اس حصے کی صورتحال کا قریب سے جائزہ لیا جا سکے اور اس کی بہتری اور انتظام سے متعلق ضروریات کا اندازہ لگایا جا سکے۔

اجلاس میں شریک فریقین نے موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھنے اور مسلمانوں کی تدفین کے لیے مختص جگہ کی توسیعی منصوبے پر عمل درآمد تک عارضی حل تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ والنسیا کا اسلامی قبرستان 2000 سے فعال ہے اور گزشتہ 26 برسوں کے دوران یہ مسلمانوں کی مذہبی اقدار اور رسومات کے مطابق تدفین کے لیے مختص جگہ بن چکا ہے۔

والنسیا کی مسلم برادری نے بھی قبرستان کے حکام اور بلدیہ کے قانونی شعبے کی جانب سے بات چیت اور تعاون پر مبنی طریقہ کار کا خیرمقدم کیا اور ایسے حل تلاش کرنے کے لیے تعاون جاری رکھنے پر زور دیا جو قوانین کی پابندی کے ساتھ مسلمانوں کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات اور تدفین کی اسلامی روایات کو پورا کر سکیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha