1 اکتوبر 2026 - 10:19
عراق سے امریکی انخلا؛ ایران علاقائی مستقبل کا مرکز بن گیا ہے، واشنگٹن پوسٹ

واشنگٹن پوسٹ نے آج بدھ کے روز ایک رپورٹ میں عراق سے امریکی انخلا کے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خطے کے مستقبل کی تشکیل میں ایران کے بڑھتے ہوئے کردار پر زور دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اخبار واشنگٹن پوسٹ نے عراق سے ـ دو عشرے بعد ـ امریکی افواج کے انخلا کے بارے میں ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ واقعہ ایسے حالات میں پیش آیا ہے جب ایران اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر ـ پہلے سے کہیں زیادہ ـ خطے کے مستقبل کی تبدیلیوں کے مرکز میں آ گیا ہے۔

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز [CSIS] کے سینئر مشیر مارک کانسیان (Mark F. Cancian) کہتے ہیں کہ امریکہ کا انخلا ایران کی پوزیشن کو مضبوط کر سکتا ہے۔

کانسیان کے مطابق، 2003 کو امریکہ نے عراق پر جارحیت کی، صدام کا تختہ الٹ دیا، عراق کو افراتفری میں دھکیل دیا اور یوں اس نے ایران کی مغربی سرحدوں پر موجودہ حریف کو منظر سے ہٹا دیا۔

امریکی حکام نے اعلان کیا کہ آخری باقی ماندہ افواج اردن منتقل کر دی گئی ہیں؛ جہاں داعش افواج کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ کے موجودہ مشن کا مرکز ہے۔

واضح رہے کہ داعش اس وقت بھی اور آج سے 10 سال پہلے بھی، امریکی سرپرستی میں سرگرم عمل تھی جس کا اعلان سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی کیا تھا اور ٹرمپ نے بھی اپنے پہلے دور کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو طعنے دیتے ہوئے کہا تھا کہ داعش کو بارک آوباما نے بنایا ہے۔ اگر آج 10 سالہ امریکی مشن کے بعد بھی داعش عراق اور شام میں موجود ہے تو یہ اندازہ لگانا بہت آسان ہے کہ امریکہ نے داعش کا نام استعمال کیا، اور اس کے خلاف جنگ کی آڑ میں، اس کو محفوظ رکھا۔

اب امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی باقی ماندہ افواج اردن منتقل کر دی گئی ہیں اور داعش کا مقابلہ جاری رکھنے کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے!

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنل نے بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ امریکی افواج اور ساز و سامان کا انخلا "جنگ کے وقت کے اتحادی مشن سے عراق کی قیادت میں ایک سلامتی کی کوشش کی طرف منتقلی کی کی علامت" ہے!

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ عراق سے امریکی افواج کی دوبارہ منتقلی کو واشنگٹن میں زیادہ کوریج نہیں ملی؛ جبکہ 2003 میں عراق پر [بلاجواز] امریکی جارحیت نے بھاری انسانی اور مالی نقصانات ورثے میں چھوڑے ہیں جن کے اثرات نسلوں تک باقی رہیں گے۔

براؤن یونیورسٹی کے "کاسٹس آف وار" (Costs of War) پروجیکٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، عراق پر امریکی حملے اور 2023 کے درمیان تقریباً 2 لاکھ 10 ہزار عراقی شہری ہلاک ہوئے۔ جبکہ غیر رسمی اور عراقی ذرائع کہتے ہیں کہ اس جنگ کے نتیجے میں کم از کم 10 لاکھ عراقی شہری جان سے گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha