اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، یحییٰ سریع نے کہا کہ یمنی مسلح افواج نے ایک تیز رفتار کارروائی کے دوران دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں جنوبی اور ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب کے قریب واقع علاقوں تک کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان پیش قدمیوں کے ردعمل میں سعودی حکومت نے اپنے حمایت یافتہ عناصر کی مدد کے لیے یمن پر فضائی حملوں میں اضافہ کیا، جس کے جواب میں یمن نے سعودی عرب کے اندرونی علاقوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق یمنی فوج اور انصاراللہ نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر کنٹرول مضبوط کرنے کے بعد تعز کے جنوب اور جنوب مغربی پہاڑی علاقوں میں بھی پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔
ان علاقوں کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہاں موجود پہاڑی راستے تعز شہر کو جنوبی علاقوں سے ملانے والے زمینی راستوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ساحلی علاقوں میں انصاراللہ کی پوزیشن مستحکم ہونے کے بعد ان پہاڑی علاقوں میں پیش قدمی ساحلی علاقوں اور تعز کے جنوبی حصوں کے درمیان زمینی رابطے کو متاثر کر سکتی ہے اور خطے میں موجودہ محاذ بندی تبدیل ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ