بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مغربی ایشیا کے خطے میں امریکہ کی مسلط کردہ جنگ دوسرے زاویئے سے بھی امریکہ کے اندر پلٹ گئی ہے؛ اب تیل کی برآمدات اور ڈيزل کی بڑھتی ہوئی قیمت پر جنگ کی باری ہے، اور جو لوگ کل تک ٹرمپ کے کٹر حامی تھے وہ اب اس سے لڑ رہے ہیں۔
امریکہ میں ڈیزل کی قیمت میں بے مثال اضافہ ہؤا ہے اور یہ 6.50 ڈالر فی گیلن سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اس کی بڑی وجوہات ایران کے خلاف جنگ اور یوکرین میں روس کی کارروائیاں ہیں، جن سے دنیا کی تقریباً دس فیصد ریفائننگ صلاحیت بند ہو گئی ہے۔

اس بحران نے ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی تیل کمپنیوں کے درمیان کھلے تصادم کی فضا کو جنم دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ ڈیزل کی بڑھتی قیمت روکنے کے لئے برآمد پر پابندی سمیت سخت اقدامات پر غور کر رہی ہے؛ نائب صدر جے ڈی وینس نے ان اقدامات کی حمایت کی ہے۔
دوسری طرف امریکی تیل صنعت کی بڑی تنظیمیں اس پابندی کے خلاف ہیں اور کہتی ہیں کہ اس سے پیداوار کم ہوگی، قیمتیں مزید بڑھیں گی اور عالمی منڈیوں کی طرف سے جوابی اقدامات شروع ہوں گے۔

وزیر خزانہ تیل کی برآمد پر پابندی کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے جبکہ وزیر توانائی اسے بے فائدہ قرار دے رہا ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ ـ کسانوں، ٹرک ڈرائیوروں، ریپبلکن قانون سازوں اور تیل صنعت کے دباؤ کے درمیان ـ پھنس گئی ہے۔
یورپ اور لاطینی امریکہ امریکی ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں، اور ٹرمپ کے بیان کے بعد یورپ میں ڈیزل کی قیمت 7 فیصد بڑھ گئی۔
امریکی تیل صنعت کے اپنے اعتراف کے مطابق اس بحران کا کوئی "جادوئی حل" موجود نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ