24 ستمبر 2026 - 15:48
طالبان نے افغانستان میں شیعہ مراکز بند کرنے کے لیے کمر کس لی

افغانستان میں طالبان حکومت نے حالیہ مہینوں کے دوران شیعہ مذہبی، علمی اور ثقافتی مراکز کے خلاف پابندیوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ تمدن ٹی وی، حوزہ علمیہ و جامعہ خاتم النبیینؐ، خاتم الانبیاءؐ کمپلیکس اور شہید مزاری مصلیٰ سمیت متعدد مراکز بند کیے جا چکے ہیں، جبکہ گزشتہ روز کابل میں مزید کئی شیعہ مراکز کو بھی بند اور سیل کر دیا گیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مقامی ذرائع نے ابنا کو بتایا کہ گزشتہ روز (بدھ، یکم میزان) طالبان کی جانب سے شیعہ مراکز کی بندش کے سلسلے میں کابل میں متعدد اہم شیعہ مراکز کو بند اور معطل کر دیا گیا۔

حالیہ مہینوں کے دوران طالبان حکومت نے افغانستان میں شیعہ مذہبی، علمی اور ثقافتی مراکز کی بڑے پیمانے پر بندش اور قبضے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان اقدامات کو عموماً جماعتی وابستگی یا سرکاری زمین پر قبضے کے دعوے سے جواز فراہم کیا جاتا ہے، جس کے باعث مذہبی اور ثقافتی آزادیوں پر پابندیوں کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہوئی ہے۔

افغانستان کے شیعوں کا اہم اور فعال ترین میڈیا ادارہ تمدن ٹی وی جون 2026 کے اواخر میں بند کر دیا گیا اور طالبان فورسز نے اس کے آلات ٹی وی چینل کی عمارت سے منتقل کر دیے۔

کابل میں شیعوں کے سب سے بڑے دینی مرکز حوزہ علمیہ خاتم النبیینؐ کا ستمبر 2026 کے وسط میں محاصرہ کیا گیا اور اسے مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا۔ چند روز بعد 25 ستمبر کو وزارت اعلیٰ تعلیم کی جانب سے اجازت نامہ منسوخ کیے جانے کے بعد جامعہ خاتم النبیینؐ بھی بند کر دیا گیا۔

افغانستان کی اعلیٰ شیعہ کمیسیون، جسے خود حکومت نے قائم کیا تھا، کی جانب سے چلائے جانے والے خاتم الانبیاءؐ کمپلیکس اور مغربی کابل میں شہید مزاری مصلیٰ کو بھی ستمبر 2026 کے آخری دنوں میں طالبان فورسز نے بند کرکے سیل کر دیا۔ اس مرکز کے ذمہ داران کو گرفتار کر لیا گیا اور عمارتوں پر تالے لگا دیے گئے۔

گزشتہ روز بھی اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے کابل میں مسجد رسول اکرمؐ، میوند اسپورٹس کلب اور سید ہاشم جوادی بلخابی کے دفتر کو بند کر دیا گیا۔

یہ اقدامات افغانستان کے شیعہ اداروں کو محدود کرنے کے لیے طالبان کے عزم کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کے خلاف ملک کی شیعہ برادری میں وسیع پیمانے پر احتجاج سامنے آیا ہے۔ افغانستان کے نمائندے نے بھی 10 روز قبل افغانستان کے بارے میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں طالبان کی جانب سے شیعوں پر دباؤ اور شیعہ شخصیات کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha