23 ستمبر 2026 - 22:28
RQ-170 کے تجربے کا آغاز، اس بار پانی کی گہرائیوں سے

RQ-170 کا تجربہ اس بار پانی کی گہرائیوں میں دہرایا جا رہا ہے؛ جہاں ایک جدیدترین امریکی آبدوز ایران کے ہاتھ لگا ہے اور اب اسے ریورس انجینئرنگ کے راستے پر ڈالا جائے گا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے حال ہی میں کہا کہ ایک امریکی آبدوز جہاز ہاتھ لگا ہے اور اس کی ریورس انجینئرنگ کا عمل شروع ہو گا، جس کے بعد ایک بار پھر بغیر عملے کے جدید سسٹمز حاصل کرنے کی اہمیت نمایاں ہو گئی ہے؛ ایسا سسٹم جس کے بارے میں بریگیڈیئر جنرل پحسین محبی کے مطابق، یہ برتر ٹیکنالوجی کا حامل سسٹم ہے اور اب اس کے اجزاء، کنٹرول سسٹمز، سینسرز اور ساخت کا بغور جائزہ لے کر ایران میں اس ٹیکنالوجی کی ریورس انجینئرنگ کا عمل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔

RQ-170 کے تجربے کا آغاز، اس بار پانی کی گہرائیوں سے

Dive-LD آبدوز تقریباً 5.8 میٹر لمبا اور تقریباً تین ٹن وزنی ہے اور اسے گہرے پانیوں میں طویل خودمختار مشن انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ سسٹم 10 دن تک پانی کے نیچے کام کر سکتا ہے اور بنانے والے کی اعلان کردہ تفصیلات کے مطابق، 6000 میٹر کی گہرائی تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس سسٹم کا ماڈیولر ڈیزائن اور تھری ڈی پرنٹنگ سے بنائے گئے حصے بھی مختلف قسم کے سینسرز اور مشن پے لوڈز کی تیز رفتار تنصیب کو ممکن بناتے ہیں۔ اس کے مشنز میں آبدوز شناخت اور نگرانی، فرشِ بحر (Seabed) کی نقشہ کشی، بارودی سرنگوں کا کھوج لگانا، سمندری کیبلز اور پائپ لائنوں کا جائزہ لینا، آبدوزشکن جنگی کاروائیوں وارفیئر کی مدد کرنا اور معلومات کی منتقلی شامل ہیں۔

لیکن ایران کے لئے اس سسٹم کی اہمیت صرف اس کی عملیاتی (آپریشنل) صلاحیتوں تک محدود نہیں ہے۔ جو چیز زیادہ اہم ہو سکتی ہے وہ وہ معلومات ہیں جو اس کی ساخت اور اجزاء کے جائزے سے حاصل ہوں گی؛ جیسے: سینسرز اور تصویرکشی کے آلات سے لے کر کنٹرول سسٹمز اور مختلف اجزاء کے درمیان رابطے کے طریقوں تک۔

RQ-170 کے تجربے کا آغاز، اس بار پانی کی گہرائیوں سے

جو چیز انجینئروں کی میز پر رکھی جائے گی

ایک جدید سسٹم کی ریورس انجینئرنگ، مماثل نمونہ بنانے کے امکان کے علاوہ، اس کے سینسرز، تصویرکشی کے آلات، کنٹرول اور گائیڈنگ سسٹمز اور مواصلاتی ساخت کے بغور جائزے سے خودکار آبدوز سسٹمز کی ٹیکنالوجی کی مزید شناخت کا باعث بن سکتی ہے؛ ایسی شناخت جو ماہرین کے مطابق، نئی نسل کے مقامی سسٹمز کی ڈیزائننگ اور ترقی میں بروئے کار لائی جا سکتی ہے اور بعض شعبوں میں تحقیق و ترقی کے عرصے کو مختصر کر سکتی ہے۔

یہ معاملہ ڈرون کے میدان کے ایک اسی قسم کے سابقہ کی بھی یادآوری کرتا ہے؛ جہاں ایران 4 اپریل سنہ 2011ع‍ میں امریکی ڈرون RQ-170 حاصل کرنے میں کامیاب ہؤا اور اس کے بعد، اس ڈرون کے مختلف اجزاء کے جائزے کو ایجنڈے پر رکھا گیا۔

RQ-170 کے تجربے میں، تصویری سسٹمز، سینسرز، الیکٹرانک آلات اور ڈرون کی ساخت کا جائزہ لیا گیا اور اس کے بعد سیمرغ اور صاعقہ جیسے نمونے اس ڈرون کی ریورس انجینئرنگ کی بنیاد پر تیار کئے گئے۔

RQ-170 کے تجربے کا آغاز، اس بار پانی کی گہرائیوں سے

اُس تجربے کی اہمیت بھی صرف ایک مماثل نمونہ بنانے تک محدود نہیں تھی، بلکہ ایک جدید سسٹم کے جائزے نے ماہرین کو ایک اسٹیلتھ ڈرون کے ڈھانچے کی ڈیزائننگ، الیکٹرانک سسٹمز، تصویری آلات، مواصلات اور مجموعی ساخت کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

اب آبدوز کے میدان میں بھی ایک بغیر عملے کے جدید سسٹم کا جائزہ ایسا ہی کردار ادا کر سکتا ہے اور یوں Dive-LD کے ہاتھ لگنے کی اہمیت کو ایک عملیاتی کامیابی سے بڑھ کر دیکھنا چاہئے؛ کیونکہ اس شکار کی اہمیت کا ایک حصہ یہ ٹیکنالوجی اور معلومات ہیں ہے جو اس کے بعد انجینئروں کو دستیاب ہوں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha