اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،قالیباف نے دفاع مقدس کے سابق فوجیوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ماضی میں ایسے حالات بھی دیکھے جب اسے بنیادی فوجی سازوسامان تک فراہم نہیں کیا جاتا تھا، لیکن دفاعی مزاحمت کی اسی ثقافت نے ملک کو اس مقام تک پہنچایا کہ آج وہ اپنی میزائل صلاحیت کے ذریعے مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ایران کو اقتصادی، فوجی، سفارتی، میڈیا اور ہائبرڈ جنگ کا سامنا ہے، لیکن ہم کبھی تسلیم نہیں ہوں گے، ملک کو بند نہیں کریں گے اور طاقت کے ساتھ جواب دیں گے۔
قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے کہا کہ وہ ایک تاریخی تہذیب اور قومی و دینی مزاحمت کا سامنا کر رہا ہے اور ایران کی قوم یا مسلح افواج پر اپنی طاقت مسلط نہیں کرسکتا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے مزید کہا کہ ایران کے پاس پائیدار دفاعی صلاحیت موجود ہے اور وہ دشمن کے مقابل کھڑا ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول مذاکرات بھی جدوجہد کا ایک میدان ہیں اور سفارت کاری کا مطلب تسلیم ہونا نہیں بلکہ میدان میں حاصل طاقت کو سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنا ہے۔
آپ کا تبصرہ