18 ستمبر 2026 - 15:21
انصاراللہ کے سربراہ: یمنیوں کی جان مکہ مکرمہ اور مقدسات پر قربان، مکہ کو نشانہ بنانے کا سعودی دعویٰ جھوٹ ہے

یمن کی تحریک انصاراللہ کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے مکہ مکرمہ کو یمن کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے سعودی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بڑا جھوٹ، کھلا بہتان اور یمن کے خلاف اقدامات میں دوسروں کو شامل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی تحریک انصاراللہ کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے ملک کی تازہ ترین صورتحال اور واقعات کے بارے میں خطاب کرتے ہوئے یمنی عوام کی بڑی کامیابیوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ کشیدگی میں کمی کے مرحلے کے دوران سعودی حکومت نے امن کے قیام کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا بلکہ سعودی عرب نے اس مرحلے کو اپنی کارروائیاں تیز کرنے اور تکفیری مسلح فورسز تشکیل دینے کے لیے استعمال کیا ہے۔

الحوثی نے کہا کہ سعودی عرب نے اس بات کو قبول نہیں کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی احترام کی بنیاد پر ہوں اور وہ یمن کے عوام کی تذلیل اور ان کے امور میں مداخلت پر بدستور اصرار کر رہا ہے۔

انصاراللہ کے سربراہ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یمن دفاعی پوزیشن میں ہے، کہا کہ سعودی حکومت ہر مرحلے میں جارحیت شروع کرنے والی فریق رہی ہے اور اس کی تازہ مثال صنعاء کے ہوائی اڈے پر حملہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 12 برس کے دوران یمنی مسلح افواج کی کارروائیوں اور سعودی عرب کے حملوں کا سادہ سا موازنہ یہ واضح کرتا ہے کہ کون سا فریق اخلاقی اور شرعی اصولوں کا پابند رہا ہے۔

الحوثی نے کہا کہ سعودی عرب نے اپنے حملوں کے دوران یمن کے تمام علاقوں کو نشانہ بنایا اور بازاروں، گھروں اور اسپتالوں میں یمنی عوام کو شہید کیا۔ ان کے مطابق 2 ہزار سے زائد مساجد اور رہائشی مراکز، نابینا افراد سے متعلق مراکز اور تاریخی مقامات بھی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے دستاویزات اور شواہد یمن کے پاس موجود ہیں اور اقوام متحدہ نے بھی ان کی تصدیق کی ہے۔

یمن کے جاری محاصرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محاصرے کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے اور دشمن ہوائی اڈوں کو بند رکھنے اور اشیائے ضروریہ کی درآمد پر غیر منصفانہ پابندیاں عائد کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔

الحوثی نے مکہ مکرمہ کو یمن کی جانب سے نشانہ بنائے جانے سے متعلق دعووں کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے بڑا جھوٹ، کھلا بہتان اور یمن کے خلاف بین الاقوامی سطح پر پیدا ہونے والی صورتحال کا ازالہ کرنے اور دوسروں کو یمن کے خلاف اقدامات میں شامل کرنے کی کوشش قرار دیا۔

انصاراللہ کے سربراہ نے تأکید کی کہ یمنی عوام اپنی جان و روح مکہ مکرمہ اور مقدسات پر قربان کرتے ہیں۔

انہوں نے ان ممالک پر تنقید کی جو مقدسات کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہیں لیکن عملی طور پر انہیں تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے ان ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ عملی میدان میں آگے آئیں تاکہ واضح ہو سکے کہ مقدسات کے بارے میں حقیقی غیرت رکھنے والے کون ہیں۔

الحوثی نے فلسطین کی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اصل دشمن صیہونی ریاست ہے اور اس ریاست کا منصوبہ مکہ اور مدینہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور فلسطین پر قبضہ کرنے پر مبنی ہے۔

انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والے عرب ممالک پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے فلسطینی عوام کی حمایت کے بجائے کھربوں ڈالر اسرائیل کے حوالے کیے تاکہ وہ اپنی مطلوبہ اسلحہ ضروریات پوری کر سکے، جبکہ فلسطینی مسلح گروہوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha