اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی اخبار ہاآرتص کے فوجی تجزیہ کار عاموس ہریئل نے ایک مضمون میں صیہونی ریاست کی طویل جنگ اور بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہوئے خبردار کیا کہ جنگ جاری رکھنے سے اس ریاست کے سکیورٹی اور فوجی مسائل کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں فوج کی ذمہ داریوں کا دائرہ وسیع، ریزرو فوجیوں پر دباؤ بڑھا اور معیشت پر بھاری بوجھ پڑا ہے۔
ہریئل کے مطابق، نیتن یاہو نے جنگی اور ہنگامی صورتحال کو برقرار رکھتے ہوئے لامتناہی جنگ کو اپنی سیاسی کمزوری کے بجائے اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھنے کے ایک ذریعے میں تبدیل کر دیا ہے۔
عاموس ہریئل نے کہا کہ موجودہ جنگ صیہونی ریاست کی تاریخ کی سب سے طویل جنگ بن چکی ہے اور یہ جنگ ان اصولوں کے منافی ہے جو ڈیوڈ بن گوریون نے اس ریاست کے سکیورٹی نظریے میں وضع کیے تھے۔
ان کے مطابق، نیتن یاہو اب بھی ’’فتح‘‘ کی بات کر رہے ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں ان کی گفتگو میں ’’مکمل فتح‘‘ کا تصور بھی پہلے کی نسبت کم نمایاں ہو گیا ہے۔
ہریئل نے مزید دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو جنگ جاری رکھ کر مقبوضہ علاقوں میں ہنگامی صورتحال برقرار رکھنے، سات اکتوبر کے حملے کا سبب بننے والے عوامل پر عوامی توجہ کم کرنے اور سکیورٹی ناکامیوں کی ذمہ داری فوج اور شاباک کے کمانڈروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق نومبر 2023 سے ہی یہ امکان سامنے آ گیا تھا کہ نیتن یاہو اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے جنگ کو دانستہ طور پر طول دینا چاہتے ہیں، تاہم اس وقت اس امکان کی شدید تردید کی گئی تھی۔
ہریئل نے لکھا کہ جو بائیڈن اور اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قیدیوں کے معاملے پر معاہدے اور غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بھی اس عمل کو روکنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے جنگ جاری رکھنے کے طریقہ کار پر اندرونی اختلافات کی طرف بھی اشارہ کیا اور لکھا کہ بعض سیاسی اور فوجی شخصیات، جن میں بینی گینٹز اور گادی آئزن کوٹ شامل ہیں، غزہ جنگ جلد ختم کرنے اور لبنان کے محاذ پر توجہ مرکوز کرنے پر زور دے رہے تھے۔
مضمون کے ایک اور حصے میں مختلف محاذوں پر صیہونی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں اضافے کا ذکر کیا گیا ہے۔
ہریئل کے دعوے کے مطابق، صیہونی فوج اب سات اکتوبر 2023 کی رات کے مقابلے میں 1220 مربع کلومیٹر زیادہ علاقے پر قابض ہے۔ یہ علاقے لبنان، شام اور غزہ کی پٹی کے تین محاذوں میں واقع ہیں۔ اس کے علاوہ رواں سال مغربی کنارے میں 26 نئی یہودی بستیوں کے قیام کا منصوبہ ہے، جبکہ اب تک اس علاقے میں 95 آبادکاری مراکز اور 42 فارم قائم کیے جا چکے ہیں۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران صیہونی ریاست کی سرحدوں سے باہر بھی 63 فوجی اڈے قائم کیے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر غزہ کی پٹی میں واقع ہیں۔
اس فوجی تجزیہ کار نے صیہونی فوج اور ریزرو فورسز پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی طرف بھی اشارہ کیا اور لکھا کہ سرحدوں اور زیرِ قبضہ علاقوں کے دفاع پر مامور فوجیوں کی تعداد سات اکتوبر کے حملے سے پہلے کی صورتحال کے مقابلے میں تقریباً 300 فیصد بڑھ گئی ہے۔
ان کے مطابق، اس صورتحال کے باعث ریزرو فوجی سالانہ تقریباً 100 دن ڈیوٹی پر رہتے ہیں، جبکہ فوجی دستے بھی تقریباً مسلسل فوجی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ اس صورتحال نے فوج کو تربیت اور اپنی جنگی صلاحیت بحال کرنے کے لیے درکار وقت سے محروم کر دیا ہے۔
دوسری جانب صیہونی ریاست اب تک جنگ پر تقریباً 420 ارب شیکل خرچ کر چکی ہے اور دو سال بعد امریکہ کی جانب سے سالانہ سکیورٹی امداد روک دیے جانے کا امکان بھی تل ابیب کے لیے ایک نئی تشویش بن گیا ہے۔
ہریئل نے آخر میں صیہونی فوج کے جنرل اسٹاف میں سامنے آنے والے جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ پیچیدہ صورتحال کے باوجود اب وقت آ گیا ہے کہ فوج کو درپیش محاذوں کا دائرہ کم کرنے کے لیے سیاسی اقدامات شروع کیے جائیں۔
تاہم ان کے بقول، نیتن یاہو کم از کم اکتوبر کے آخر میں ہونے والے انتخابات تک ایسا قدم اٹھانے کے لیے زیادہ آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔
اس فوجی تجزیہ کار نے علاقائی اور بین الاقوامی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ اب دوسرے محاذوں کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جس سے جنگ کے مستقبل اور تل ابیب کی جنگی پالیسیوں کے لیے امریکی حمایت کی سطح متاثر ہو سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ