اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مجلس وحدتِ امتِ مصطفیٰؐ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید جواد نقوی نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین سے شروع ہونے والا ظلم اور جارحیت رفتہ رفتہ ایران تک پہنچا، تاہم اللہ تعالیٰ نے ظالموں کی تمام تدبیروں کو ناکام بنا دیا اور ان کی سازشیں انہی پر پلٹ گئیں۔ آج وہ مسلسل رسوائی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کے بیانات میں مایوسی واضح نظر آ رہی ہے اور حزب اللہ، حماس اور فلسطین کے بارے میں ان کے تمام دعوے زمینی حقائق کے برعکس ثابت ہوئے ہیں۔ خاص طور پر یمن کی صورت حال نے خطے کے حالات کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ جس جنگ کو آسانی سے قابو میں رکھنے کا خیال تھا، اس نے بھاری قیمت وصول کی اور صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ اپنی حماقت کے باعث انہوں نے باب المندب کی بندش کا راستہ ہموار کر دیا۔
سید جواد نقوی نے کہا کہ ان حالات کے باوجود ایک بار پھر پاکستان کو اس تنازع میں گھسیٹنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ماضی میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کو یمن کی جنگ میں شامل ہونے سے روک دیا تھا، تاہم آج ایک بار پھر بعض حلقوں میں یمن میں کارروائی کے لیے جوش و خروش پیدا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو موجودہ حالات میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ حکومت کو اپنی سرکاری فورسز کے علاوہ غیر ریاستی عناصر کو بھی کسی دوسرے ملک کی جنگ میں استعمال ہونے سے روکنا چاہیے۔ ماضی میں افغانستان کی جنگ کے لیے تیار کیے گئے عناصر بعد میں خود پاکستان کے لیے خطرہ بن گئے۔ اس لیے شام یا یمن کے لیے بھی ایسے عناصر تیار کرنا مستقبل میں ملک کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
مجلس وحدتِ امتِ مصطفیٰؐ کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کو کسی بیرونی جنگ میں شامل ہونے کی کوئی مجبوری نہیں۔ آج جو لوگ ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں سے وابستہ ہو کر کامیابی کی امید لگائے بیٹھے ہیں، انہیں حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے۔ جو لوگ اپنا مستقبل ٹرمپ سے وابستہ کر چکے ہیں، انہیں جتنی جلدی ممکن ہو اس وابستگی سے الگ ہو جانا چاہیے، کیونکہ فرعون غرق ہونے والا ہے اور اس کے آثار پوری دنیا کے سامنے واضح ہو چکے ہیں۔
سید جواد نقوی نے آخر میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال کا تقاضا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی، معیشت اور قومی مفادات کو اولین ترجیح دے اور ہر ایسے اقدام سے گریز کرے جو ملک کو کسی نئی جنگ اور بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ