اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سلامتی کی بحالی کے لیے امریکا کو ایسے اقدامات روکنا ہوں گے جو خطے میں عدم تحفظ کا باعث بن رہے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مذاکرات کے حوالے سے ایران کی شرائط کا تعلق عمان میں ہونے والے آئندہ اجلاس سے بھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے اہم ایجنڈوں میں ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے محفوظ راستے مقرر کرنے سے متعلق طے پانے والی مفاہمت کا جائزہ لینا شامل ہے۔
بقائی نے واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان عارضی بحری راستوں پر اتفاق کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت مکمل طور پر محفوظ ہوگئی ہے۔
ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران اور خطے پر جنگ مسلط کیے جانے کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال غیر محفوظ ہوئی ہے۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ جب تک امریکا بحری ناکہ بندی اور تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات سمیت اپنے اقدامات جاری رکھتا ہے، اس وقت تک آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں مکمل سلامتی کی بحالی کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
بقائی نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں سلامتی اور بحری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی اور ایران کے خلاف دیگر غیرقانونی مداخلتیں فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔
آپ کا تبصرہ