بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں آبنائے ہرمز سے تیل کی منتقلی کے لئے امریکی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
• عراق سے امریکی افواج کا انخلا بہت اہم تھا۔ اور اب اس جنگ میں بھی جو ہم اب امریکیوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں، امریکی تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔
• امریکیوں کو نکال باہر کرنا، پہلے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے؛ کیونکہ یہ انخلا ایسے حالات میں عمل میں آیا ہے کہ جب وہ ایران میں شکست کھا گئے ہیں۔
• اگر امریکی ایران میں کامیاب ہو جاتے، تو وہ بغداد میں مزید 40 سے 50 ہزار فوجی داخل کر دیتے، عراق کی حکومت اور پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیتے اور بعثیوں اور امریکی داعشیوں پر مشتمل صدام جیسی آمریت قائم کر دیتے۔ یہ امریکی منصوبہ تھا جو ایران کے خلاف جنگ میں شکست کی وجہ سے ناکام ہو گیا۔
• چونکہ امریکہ کا ایران پر حملہ ناکام ہؤا اور دوسری طرف، مزاحمتی محاذ نے بھی عراق کے اندر ان کے سامنے کھڑے ہوکر ڈٹ کر مقابلہ کیا، چنانچہ اس کے پاس عراق سے نکلنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
• ہم اس عظیم فتح پر، عراقی عوام، مرجعیت اور مزاحمتی قوتوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
• عراق سے امریکی افواج کا انخلا خطے پر اپنا فوجی منصوبہ مسلط کرنے میں واشنگٹن کی ناکامی اور مغربی ایشیا میں امریکی فوجی موجودگی کے خلاف ایران کی مزاحمت کی درستگی اور حقانیت کی تصدیق کرتا ہے۔
• عراقی عوام کی آمدنی اور اس ملک کی فضائی حدود اب بھی امریکہ کے قبضے میں ہیں۔
• عراق کے لئے ایران کی پروازوں کی منسوخی بھی اس بات کا اظہار تھا کہ اگرچہ امریکیوں نے اپنی زمینی افواج عراق سے نکال لی ہیں، مگر عراق کی معیشت پر ان کا تسلط اور عراق میں امریکی مداخلت اب بھی جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ