اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی ریاست کی جنگ شروع ہونے کے بعد خلیج تعاون کونسل کے دیگر رکن ممالک کو تیل اور گیس کی برآمدات میں کمی یا ان کی بندش کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ سعودی عرب واحد ملک تھا جو عالمی منڈیوں تک اپنی تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ پہنچانے میں کامیاب رہا۔ تیل کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے سعودی عرب نے مشرق سے مغرب تک پھیلی پائپ لائن پر انحصار کیا۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع بقیق کے تیل کے میدان سے شروع ہو کر بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ تک جاتی ہے۔
لبنان کے اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ 13 جولائی کو سعودی عرب کی جانب سے صنعاء کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد سعودی عرب اور یمن کے درمیان غیر اعلانیہ جنگ بندی ختم ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں تیل کی برآمدات کے لیے اختیار کیا گیا یہ اہم متبادل راستہ بھی یمن کی مسلح افواج کے میزائلوں کی زد میں آگیا۔
یمن کی مسلح افواج نے صرف آبنائے باب المندب سے گزرنے والے سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ سعودی عرب کی متعدد اہم تیل تنصیبات، جن میں تیل کے میدان، صاف کرنے کے کارخانے اور تیل کی ترسیل کی پائپ لائنیں شامل ہیں، کی جانب بھی میزائل داغے ہیں۔ اس طرح سعودی عرب کے تیل کے مفادات بھی اس کے اہم ہوائی اڈوں کے ساتھ ان اہداف کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں جنہیں ’’محاصرے کے جواب میں محاصرہ‘‘ کی حکمت عملی کے تحت نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
معاشی دھچکا
سعودی عرب کو یہ سمجھنے کے لیے کسی پیچیدہ تحقیق کی ضرورت نہیں کہ یمن میں نئی فوجی مہم جوئی یا اس کی حمایت کے سنگین معاشی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر اس لیے کہ یمن کی مسلح افواج اپنی نمایاں فوجی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرچکی ہیں۔ غزہ کی جنگ کے دوران انہوں نے صیہونی ریاست کی ایلات بندرگاہ کے خلاف وسیع بحری محاصرہ قائم کیا، جس کے بعد امریکہ کو باہمی حملے روکنے کے لیے یمن کے ساتھ بالواسطہ مفاہمت کی طرف آنا پڑا۔
اگرچہ سعودی معیشت کے بعض اشاریے قابل قبول حد میں ہیں، لیکن دوسرے اعداد و شمار اس ملک پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مثبت اشاریوں میں ستمبر کے دوران تیل کی برآمدات میں اضافہ شامل ہے۔ مشاورتی اداروں اور عالمی منڈیوں کی نگرانی کرنے والے اداروں نے سعودی تیل کی برآمدات کا حجم تقریباً 66 لاکھ بیرل یومیہ بتایا ہے۔ اسی طرح اگست میں سعودی عرب میں مہنگائی کی شرح 1.8 فیصد سے زیادہ نہیں ہوئی، جبکہ ستمبر میں اس کے غیر تیل والے نجی شعبے کی معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے آثار بھی دکھائی دیے۔
تاہم، بعض منفی اشاریے بھی موجود ہیں جو سعودی معیشت پر پڑنے والے دباؤ کی نوعیت واضح کرتے ہیں۔ تیل کی سرگرمیوں میں مسلسل کمی، رسد کے سلسلوں میں رکاوٹوں اور جغرافیائی و سیاسی خطرات میں اضافے کے باعث یہ دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
اسی لیے کاروباری سرگرمیوں میں بہتری اور سعودی عرب کی مجموعی معیشت کی ترقی میں فرق کرنا ضروری ہے۔ سعودی مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں ملک کی معیشت گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 4.7 فیصد سکڑ گئی۔ دستیاب اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جولائی میں سعودی عرب کی مجموعی برآمدات گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 17.2 فیصد کم ہوگئیں، جبکہ درآمدات میں بھی 15.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
یمن میں حالیہ تبدیلیوں، جوابی کارروائیوں میں نشانہ بنائی گئی تنصیبات کی نوعیت اور ان کے جغرافیائی پھیلاؤ، نیز آبنائے باب المندب پر یمن کی مسلح افواج کے مکمل کنٹرول کے ممکنہ نتائج کو دیکھتے ہوئے سعودی معیشت کو کئی ایسے حالات کا سامنا ہوسکتا ہے جو اس پر گہرے منفی اثرات مرتب کریں گے۔
ان ممکنہ نتائج میں سعودی تیل کی برآمدات کے حجم میں کمی اور اخراجات میں اضافہ، ملک کے اندر تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے اور ان کی مرمت کرکے دوبارہ پیداوار شروع کرنے پر زیادہ لاگت آنا، ہوائی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے سے سیاحت اور سفری شعبے کو نقصان پہنچنا، خطرات بڑھنے کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہونا اور نئی سرمایہ کاری میں تاخیر، طلب میں کمی اور اخراجات بڑھنے سے غیر تیل والے شعبے کی سرگرمیوں میں گراوٹ، نیز فوجی اخراجات میں اضافے اور معیشت کو سہارا دینے اور شہریوں کی قوت خرید برقرار رکھنے کی کوششوں کے نتیجے میں بجٹ خسارے میں مزید اضافہ شامل ہیں۔
یہ سعودی معیشت پر کشیدگی بڑھنے کے ممکنہ اثرات کا صرف ایک حصہ ہے۔
یمن کے عوام کی مشکلات میں اضافہ
دوبارہ جنگ بھڑکنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوسکتا ہے کہ یمن کے مختلف صوبوں اور علاقوں میں عوام کی مشکلات مزید بڑھ جائیں۔ تقریباً 12 سال کی جنگ اور محاصرے کے بعد بھی یمنی عوام بڑھتی ہوئی غربت اور غذائی عدم تحفظ سے دوچار ہیں۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق، یمن میں 2 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ افراد کو امداد اور مدد کی ضرورت ہے، جبکہ گزشتہ سال ملک کی مجموعی آبادی تقریباً 4 کروڑ 10 لاکھ بتائی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے منصوبے میں شامل اندازوں کے مطابق، یمن میں اپنے گھروں سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بھی 52 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔
یمن میں سیاسی اور ادارہ جاتی تقسیم کے نتیجے میں دو مختلف معاشی نظام وجود میں آگئے ہیں۔ ان دونوں علاقوں میں مالیاتی نظم و نسق، مالی پالیسیوں، شرح تبادلہ اور مقامی قیمتوں کے معاملات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
اس تقسیم کے اثرات یمنی ریال کی شرح تبادلہ میں مختلف علاقوں کے درمیان فرق، بنیادی اشیائے ضرورت اور نقل و حمل کے اخراجات میں تفاوت، ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک سامان اور سرمایہ منتقل کرنے میں مشکلات، مقامی حکام کی آمدنی جمع کرنے اور سرکاری اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت میں فرق، نیز عوامی خدمات اور روزگار کے مواقع میں عدم مساوات کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
اس لیے یمن میں دوبارہ جنگ چھڑنے سے اس ملک کی طویل عرصے سے جاری معاشی جمود کی کیفیت مزید خراب ہونے اور غربت و بھوک پھیلنے کا خدشہ ہے۔ تاہم، اس کے اثرات کی شدت مختلف صوبوں اور علاقوں میں مختلف عوامل کے لحاظ سے الگ الگ ہوسکتی ہے۔
اسی تناظر میں توقع ہے کہ رسد میں رکاوٹوں اور درآمدی اخراجات میں اضافے کے باعث یمن میں خوراک، ایندھن اور نقل و حمل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ پیداوار کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، تجارتی اور خدماتی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں، کاروبار بند ہوسکتے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔ گھریلو آمدنی کی حقیقی قوت خرید میں کمی بھی اس کے ممکنہ نتائج میں شامل ہے۔
ان حالات میں علاقائی اور بین الاقوامی مالی وسائل کم ہونے یا امداد کی منتقلی مزید مشکل بننے سے انسانی امداد کی ضرورت بھی بڑھ سکتی ہے۔
تاہم، نقصانات کی اصل شدت کا انحصار جنگ کے دائرے اور دورانیے پر ہوگا۔ اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ آیا لڑائی کے باعث بندرگاہوں یا تجارتی راستوں کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں یا ملک کے معاشی وسائل اور دولت کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اسی لیے جب تک جنگ کے ممکنہ منظرنامے واضح نہ ہوں اور لڑائی شروع ہونے کے بعد کے حقیقی اعداد و شمار دستیاب نہ ہوں، معاشی ترقی میں کمی یا مہنگائی میں اضافے کی درست شرح متعین نہیں کی جاسکتی۔
انسانی جانوں کا نقصان؛ ایک بار پھر بھاری قیمت
سب سے پہلے، انسانی ہلاکتوں میں دوبارہ اضافے کا خدشہ ہے، خصوصاً اگر فضائی حملوں میں رہائشی علاقوں اور عوامی بازاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
اس کے علاوہ انتقامی کارروائیوں کا خطرہ بھی موجود ہے۔ ایسی کارروائیوں کی مثالیں ان مناظر میں سامنے آئی ہیں جن میں سعودی عرب کے لیے کام کرنے والے مسلح اجرتی عناصر نے سیکڑوں غیر مسلح یمنی شہریوں کو گاڑیوں تلے کچل دیا۔
جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، یمن میں جنگ شروع ہونے سے اب تک تقریباً 3 لاکھ 77 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ان میں سے تقریباً ایک لاکھ 54 ہزار افراد براہ راست لڑائی اور تشدد کے نتیجے میں مارے گئے۔
اس کے برعکس، بیماریوں، بھوک اور بنیادی عوامی خدمات کے نظام کے تباہ ہونے کے باعث ہونے والی بالواسطہ اموات کی تعداد تقریباً 2 لاکھ 23 ہزار بتائی گئی ہے۔
آپ کا تبصرہ