اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، گزشتہ چند روز کے دوران ذرائع ابلاغ میں ایسی اطلاعات اور انکشافات سامنے آئے ہیں کہ جولانی حکومت یمن کی جنگ میں فوجی طور پر شامل ہو سکتی ہے۔ یہ شرکت سعودی عرب کی دفاعی مدد کی صورت میں یا یمن کے اندر ریاض کی حمایت یافتہ فورسز کے ساتھ مل کر لڑنے کی شکل میں ہو سکتی ہے۔
لبنانی اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ہفتے احمد الشرع المعروف ابومحمد الجولانی کے ریاض کے دورے اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے بھائی، وزیر دفاع خالد بن سلمان سے ملاقات کے بعد ان قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا۔ اس دورے کے بعد امریکی ویب سائٹ ایکسیوس اور خبر رساں ادارے رائٹرز نے متعدد ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب نے جولانی حکومت سے یمن کی مسلح افواج کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے لیے 10 ہزار سے 20 ہزار شامی فوجی بھیجنے کی درخواست کی ہے۔
اس سے چند روز پہلے قطر کے آن لائن اخبار المدن میں شائع ہونے والی اطلاعات نے بھی ان قیاس آرائیوں کو تقویت دی تھی۔ اس اخبار نے دعویٰ کیا کہ جولانی عملاً اپنے تقریباً 1500 اہلکار سعودی عرب بھیج چکا ہے۔
جولانی کے مشیر احمد موفق زیدان نے سعودی عرب کی جانب سے فوجی مداخلت کی درخواست کی تردید کی۔ جولانی حکومت کی وزارتِ اطلاعات نے بھی ایک بیان میں کہا کہ دمشق کی موجودہ ترجیح اندرونی حالات بہتر بنانا اور ملک کی تعمیرِ نو ہے۔ بیان کے مطابق، کسی بھی قسم کا فوجی تعاون صرف سرکاری ذرائع اور دوطرفہ معاہدوں کے تحت کیا جائے گا، نہ کہ نئے محاذ کھول کر۔
تاہم، اگرچہ جولانی حکومت نے ان اطلاعات کی فوری تردید کی، پھر بھی یہ امکان موجود ہے کہ وہ تمام خطرات کے باوجود سعودی عرب کی مدد اور اس کے حق میں فوجی مداخلت کو مادی اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کا موقع سمجھے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب شام کی معیشت تقریباً تباہی کے دہانے پر ہے اور بجٹ کا خسارہ تین ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، جولانی حکومت کے سامنے دستیاب راستے اور امکانات بھی بہت محدود ہیں۔ دوسری جانب خلیج فارس میں کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی سعودی عرب اور قطر نے جولانی حکومت کو دی جانے والی ماہانہ امداد روک دی ہے۔
سوڈان کا تجربہ؛ مالی وعدے اور جنگ کی بھاری قیمت
اگر جولانی ممکنہ فوائد کی امید میں واقعی اس جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کی حکومت اور اس کی فوج کی جنگی صلاحیت اور مؤثر کردار ادا کرنے کی اہلیت کے بارے میں کئی سوالات اٹھیں گے۔ جولانی حکومت کو اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک متعدد مشکلات کا سامنا ہے، اس کی اپنی پوزیشن بھی کمزور ہے اور علاقائی و بین الاقوامی تبدیلیاں شام کے وسط میں اس کی حیثیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اگر 2015 میں سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن کی جنگ میں سوڈان کی شرکت کو معیار بنایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خرطوم کو اس کردار کے بدلے کئی وعدے کیے گئے تھے۔ جنگ میں فوجی بھرتی اپنے عروج پر پہنچنے کے دوران سوڈان کو 40 ہزار فوجی بھیجنے تھے۔
اس وقت سعودی عرب نے عمر البشیر کی حکومت سے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا۔ ریاض نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ لبنان کی فوج کو جدید بنانے کے لیے پہلے اعلان کردہ تین ارب ڈالر کی فوجی امداد، جسے بعد میں روک دیا گیا تھا، سوڈانی فوج کو دے دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اقتصادی اور ترقیاتی امدادی پیکج دینے کے وعدے بھی کیے گئے تھے۔
تاہم، ان وعدوں کا انجام غیر واضح رہا، حالانکہ اس وقت سعودی عرب کی مالی حالت آج کے مقابلے میں کہیں بہتر تھی۔ عملی طور پر صرف سوڈانی فوجیوں کی تنخواہیں ادا کی گئیں، جو فی تجربہ کار فوجی زیادہ سے زیادہ 530 ڈالر تک تھیں۔
یوں سوڈان کو وعدے کے مطابق مالی امداد نہ مل سکی، جبکہ عمر البشیر نے اپنی فوج کا بڑا حصہ کھو دیا اور ملک کے بین الاقوامی تعلقات مزید خراب ہو گئے، لیکن اسے کوئی نمایاں فائدہ حاصل نہ ہوا۔
اپریل 2019 میں عمر البشیر کے اقتدار کے خاتمے کے بعد عبداللہ حمدوک کی سربراہی میں سوڈان کی عبوری حکومت نے یمن میں موجود اپنے فوجیوں کی تعداد تیزی سے کم کر دی۔ دسمبر 2019 میں یہ تعداد پانچ ہزار رہ گئی اور جنوری 2020 میں مزید کم ہو کر 657 ہو گئی۔ ان فوجیوں کی ذمہ داریوں میں براہِ راست جنگی کارروائیاں شامل نہیں تھیں۔
سوڈان نے یہ تبدیلی اپنے بین الاقوامی تعلقات کو وسعت دینے کی کوشش کے تحت کی تھی۔ اس وقت عالمی سطح پر بھی یمن کی جنگ جاری رکھنے کی مخالفت بڑھ رہی تھی۔
سعودی عرب کو زیادہ فوجیوں کی نہیں، مؤثر زمینی فورس کی ضرورت ہے
حقیقت یہ ہے کہ سوڈانی فوجیوں کی بڑی تعداد اور 2015 سے یمن کی جنگ میں سوڈان کی باضابطہ اور ابتدائی شرکت کے باوجود، سعودی عرب کو کوئی اہم عسکری کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ سوڈانی فوج نے ابتدا میں فضائی کارروائیوں اور پھر اسی سال اکتوبر سے زمینی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔ اس ناکامی کی کئی وجوہات تھیں، جن میں فوجیوں کی ناکافی تربیت، کم مہارت اور اسلحے کی کمی نمایاں تھیں۔
آج بھی سعودی عرب کا بنیادی مسئلہ غیر تربیت یافتہ اور بے نظم زمینی فوجیوں کی کمی نہیں ہے۔ اسے ایسی تربیت یافتہ اور مؤثر زمینی فورس درکار ہے جو سعودی عرب کے لیے لڑنے والے یمنی کرائے کے فوجیوں سے زیادہ مہارت رکھتی ہو اور بڑی تعداد میں اہلکاروں کے ساتھ سعودی فضائی قوت اور توپ خانے کی مدد سے جنگ کا رخ واقعی تبدیل کر سکے۔
ایسی صورت میں جولانی حکومت کو یمن کے صحراؤں میں لڑنے کے لیے ہیئت تحریر الشام کے کم از کم 30 ہزار یا اس سے بھی زیادہ اہلکار بھیجنے پڑ سکتے ہیں۔ ان میں مختلف سابقہ مسلح گروہوں اور موجودہ فوجی یونٹوں کے ارکان کے ساتھ غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر جولانی کے وفادار مسلح گروہ یمن جانے پر آمادہ ہو بھی جائیں تو وہ اپنی واحد مؤثر جنگی قوت سے محروم ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب غیر ملکی جنگجوؤں کو شام سے باہر بھیجنے میں بھی متعدد رکاوٹیں موجود ہیں۔
یہ جنگجو جولانی حکومت کے ساتھ بار بار ہونے والی جھڑپوں کے بعد اس پر اپنا اعتماد کھو چکے ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ جولانی حکومت کے عہدیدار بیرونی فریقوں سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کے لیے ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
دمشق سے 2500 کلومیٹر دور نیا محاذ
مجموعی طور پر یہ واضح نہیں کہ جولانی اپنی حکومت کے فوجی کمانڈروں اور ہیئت تحریر الشام کے شامی کمانڈروں کو اس بات پر آمادہ کر سکے گا کہ یمن کی جنگ میں شرکت درست فیصلہ ہے اور اس میں کامیابی کا امکان موجود ہے۔ اس جنگ کے لیے شام چھوڑ کر دمشق سے 2500 کلومیٹر دور محاذ پر جانا ہوگا، وہ بھی معمولی معاوضے کے بدلے۔
یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صیہونی ریاست جنوبی شام میں پیش قدمی کر رہی ہے، داعش ملک کے مختلف علاقوں میں کھلے عام سرگرم ہے اور سکیورٹی کشیدگی و واقعات بھی بڑی تعداد میں پیش آ رہے ہیں۔
عمر البشیر کی حکومت کے برعکس، جولانی کی یمن کی جنگ میں شرکت اس کے لیے نئی بین الاقوامی مشکلات پیدا کر سکتی ہے، حالانکہ اسے ان اضافی دباؤ کو برداشت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
اسی طرح جولانی حکومت کی یمن کی جنگ میں ممکنہ شرکت کا موازنہ اس وقت کے شام کی جانب سے عراق کے کویت پر حملے کے بعد صدام حسین کی حکومت کے خلاف ’’آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم‘‘ میں شرکت سے بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اس وقت شام نے کویت کے دفاع کے نام پر اس کارروائی میں حصہ لیا تھا اور اس کی شرکت کو نومبر 1990 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 678 کی حمایت حاصل تھی۔ اس قرارداد کے تحت عراق کو کویت سے نکلنے پر مجبور کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کی اجازت دی گئی تھی۔
اس کے علاوہ، شام نے اپنی اُس وقت کی 15 ڈویژنوں پر مشتمل فوج میں سے صرف ایک ڈویژن اور ایک اسپیشل فورسز بریگیڈ بھیجا تھا، یعنی اس کی کل فوج کا پانچ فیصد سے بھی کم حصہ اس کارروائی میں شریک ہوا۔
ایک سے زیادہ ذرائع کی رپورٹوں کے مطابق، شامی فوج کا عراقی فوج کے ساتھ براہِ راست تصادم نہیں ہوا۔ وہ سعودی عرب کی سرزمین پر ہی رہی اور اس کے بعض اہلکار عراقی فوج کے انخلا کے بعد ہی کویت میں داخل ہوئے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ شام نے اس وقت صدام حسین کو کویت سے انخلا پر آمادہ کرنے کے لیے ثالثی کا کردار بھی ادا کیا تھا۔ یہ کوشش بغداد پر بین الاقوامی اتحاد کے حملے سے چند گھنٹے پہلے تک جاری رہی۔
حقیقت میں امریکا شام سے براہِ راست جنگی شرکت کے بجائے اس کارروائی کو عرب دنیا کی سیاسی حمایت دلوانا چاہتا تھا۔ یہ صورت حال جولانی کے موجودہ حالات سے مختلف ہے، کیونکہ اب اس کی فورسز سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ براہِ راست زمینی جنگ میں حصہ لیں۔
کویت کی جنگ کے بعد شام نے کئی بڑے سیاسی فوائد حاصل کیے۔ اس نے لبنان کے معاملے کو اپنے حق میں طے کرنے میں کامیابی حاصل کی اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد مغربی ممالک کی اس کے خلاف سخت پالیسی میں بھی کمی آئی۔ اس کے علاوہ، امریکا نے صیہونی ریاست کے ساتھ شام کے مذاکرات، بالخصوص میڈرڈ کانفرنس کے تحت ہونے والے مذاکرات، کی حمایت کی۔
اس کے برعکس، آج ڈونلڈ ٹرمپ فخر سے کہتے ہیں، جبکہ جولانی خاموش ہے، کہ وہ امریکا کے واحد صدر ہیں جنہوں نے گولان کی پہاڑیوں پر صیہونی ریاست کی خودمختاری تسلیم کی۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وہ صیہونی ریاست کو جنوبی شام میں اپنی پیش قدمی روکنے پر آمادہ نہیں کر سکے۔
علاقائی اثرات؛ کیا ایران اور اس کے اتحادی اپنا مؤقف بدلیں گے؟
علاقائی سطح پر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا جولانی کی یمن کی جنگ میں شرکت ایران اور اس کے اتحادیوں کو اس کے بارے میں اپنا مؤقف تبدیل کرنے پر مجبور کر دے گی؟
ایران، لبنان کی حزب اللہ اور عراقی مسلح گروہوں نے اب تک جولانی حکومت کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کی۔ اس کے برعکس، انہوں نے جولانی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ترکی کی ثالثی سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ لبنان یا عراق کی سرزمین سے جولانی حکومت کے خلاف کسی سکیورٹی یا فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کرتے۔
عراقی مسلح گروہ عراق سے شام تک تیل کی منتقلی میں بھی سہولت فراہم کرتے ہیں، جبکہ عراقی حکومت کے ماتحت سکیورٹی ادارے بھی جولانی حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
تاہم، اگر جولانی یمن میں مداخلت کرتا ہے تو یہ تمام حالات بدل سکتے ہیں اور ایران و اس کے اتحادی جولانی حکومت کے بارے میں اپنا مؤقف تبدیل کر سکتے ہیں۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ کیا ایران عراق کا تیل شام کے راستے منتقل کرنے کو آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو کمزور کرنے کی کوشش سمجھے گا؟ کیا ایسی صورت حال میں اس اقدام پر خاموش رہنے کی کوئی وجہ باقی رہے گی؟
اس تبدیلی کے نتیجے میں جولانی حکومت ماہانہ کئی کروڑ ڈالر کی آمدنی سے محروم ہو سکتی ہے، جبکہ موجودہ حالات میں اسے اس آمدنی کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
ترکی کیا چاہتا ہے؟ اسلحے کی برآمدات میں اضافہ یا جنگ میں شرکت؟
یمن کی جنگ میں جولانی کی ممکنہ شرکت کے بارے میں ترکی کے حقیقی مؤقف پر بھی سوالات موجود ہیں۔ ان میں ایک سوال یہ ہے کہ انقرہ مکہ اتحاد کے نام سے معروف معاہدے کی کیا تشریح کرتا ہے۔
اگرچہ یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ترکی سعودی عرب کی براہِ راست مدد کرنے کے بجائے جولانی کو میدانِ جنگ میں اتارنا چاہتا ہے، لیکن انقرہ جولانی حکومت کی صورت حال اور اس نوعیت کی ذمہ داری اٹھانے کی اس کی صلاحیت سے بخوبی واقف ہے۔
ترکی نے یمن کی مسلح افواج کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی براہِ راست مدد کرنے میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی، حالانکہ اس نے مکہ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ مغربی ذرائع ابلاغ میں بھی اس معاہدے کی افادیت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
زیادہ امکان یہ ہے کہ ترکی اس جنگ کو اپنی دفاعی صنعت کی برآمدات بڑھانے کا موقع سمجھے، نہ کہ اپنی فوج کو زمینی کارروائیوں میں جھونکنے کا ذریعہ۔
خاص طور پر شمالی شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف ترکی کی محدود فوجی مداخلت کے تجربے سے ظاہر ہوا کہ ترک عوام شام میں اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کو آسانی سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے میں آبنائے باب المندب کے قریب اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کو برداشت کرنا تو مزید مشکل ہوگا۔
دوسری جانب، ترکی کو افریقہ کے مشرقی حصے، بالخصوص جبوتی اور صومالیہ میں اثر و رسوخ حاصل ہے۔ صومالی لینڈ کے علیحدگی پسندوں کی مخالفت کے معاملے میں، جنہیں صیہونی ریاست کی حمایت حاصل ہے، ترکی اور یمن کی حکومت کے مفادات ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
حقیقت میں انقرہ کی ترجیح یہ ہے کہ یمنی فریقوں سے براہِ راست بات چیت کی جائے یا کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران یا عمان کی ثالثی میں مذاکرات کیے جائیں، نہ کہ شامی فوجیوں کو یمن بھیج کر تنازع کو مزید بڑھایا جائے۔
صیہونی ریاست؛ کیا جولانی کی جنگ میں شرکت سے صرف اسی کو فائدہ ہوگا؟
آخر میں، بظاہر صیہونی ریاست ہی وہ واحد فریق ہے جسے جولانی کی یمن کی جنگ میں شرکت پر اعتراض نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ اس تبدیلی کو دمشق کی جانب اپنی پیش قدمی جاری رکھنے اور بحیرۂ روم سے خلیج فارس تک خطے میں مذہبی کشیدگی بڑھنے سے فائدہ اٹھانے کا اہم موقع سمجھ سکتی ہے۔
تو کیا یہ خطرہ مول لینا واقعی فائدہ مند ہوگا؟
آپ کا تبصرہ